صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 307
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۷ ١١ - كتاب الجمعة بَاب ٢٠ : لا يُقِيمُ الرَّجُلُ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَقْعُدُ فِي مَكَانِهِ جمعہ کے دن آدمی اپنے بھائی کو نہ اٹھائے اور نہ کسی کی جگہ پر بیٹھے ۹۱۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ۹۱۱ محمد بن سلام ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مخلد مَحْلَدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ بن یزید نے ہمیں بتایا، کہا: ابن جریج نے ہمیں خبر دی جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ کہا: میں نے نافع سے سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے : نبی يَقُوْلُ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بھائی أَنْ يُقِيْمَ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَقْعَدِہ کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھے۔وَيَجْلِسَ فِيْهِ قُلْتُ لِنَافِعِ الْجُمُعَةَ قَالَ ( ابن جریج کہتے ہیں:) میں نے نافع سے پوچھا: (کیا) جمعہ میں ؟ انہوں نے جواب دیا: جمعہ میں اور الجُمُعَةَ وَغَيْرَهَا۔اطرافه: ٦٢٦٩، ٦٢٧٠۔اس کے علاوہ بھی۔تشریح: ہوتا ہے کہ یہ آداب صرف جمعہ کے لئے مخصوص نہیں۔بلکہ ہر اجتماع کے لئے ہیں۔لا يُقِيمُ الرَّجُلُ اَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَقْعُدُ فِي مَكَانِهِ: روایت نمبر 1911 سے معلوم بَاب ۲۱ : الْأَذَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ جمعہ کے دن اذان ۹۱۲: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ :۹۱۲ آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب أَبِي ذِلْبٍ عَنِ الزُّهْرِي عَنِ السَّائِبِ (محمد بن عبد الرحمن ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری بْن يَزِيدَ قَالَ كَانَ النِدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سے زہری نے سائب بن یزید سے روایت کی کہ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ انہوں نے کہا: جمعہ کے دن پہلی اذان نبی ﷺ اور عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے اللهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ میں اس وقت ہوا کرتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا۔رَضِيَ