صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 297 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 297

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۹۷ ١١ - كتاب الجمعة صَاحِبُ الزِيَادِي قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عبد الحمید صاحب الزیادی نے مجھے بتایا، کہا: عبدااللہ بْنُ الْحَارِثِ ابْنُ عَمٌ مُحَمَّدِ بْنِ سِيْرِيْنَ بن حارث نے جو محمد بن سیرین کے چا کے بیٹے تھے قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لِمُؤذِنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيْرِ ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے برسات إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم کہو: اَشْهَدُ أَنَّ فَلَا تَقُلْ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قُلْ صَلُّوْا مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ (اس کے بعد ) یہ نہ کہو: نماز کے لئے آؤ۔( بلکہ ) کہو: اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔لوگوں نے اس بات کو اور پر سمجھا۔انہوں نے کہا: فِي بُيُوتِكُمْ فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا قَالَ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي إِنَّ الْجُمْعَةَ یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا تھا۔جو مجھ عَزْمَةٌ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ سے بہتر ہیں۔دیکھو جمعہ فرض ہے اور میں نے ناپسند فَتَمْشُونَ فِي الطَّيْنِ وَالدَّحَضِ کیا کہ تم کو کیچڑ اور پھسلنے کی جگہوں میں چلنا پڑے۔اطرافه: ٦١٦ - ٦٦٨، تشريح : الرُّخْصَةُ اِنْ لَّمْ يَحْضُرِ الْجُمُعَةَ فِى الْمَطَرِ : امام مالک اس فتوی کے خلاف ہیں اور جمہور اس کی تائید میں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۳۹۴) اعلان صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ سے حضرت ابن عباس کی یہ مراد نہ تھی کہ جمعہ ترک کیا جاسکتا ہے۔بلکہ اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز جمعہ ایسا فریضہ ہے جو ترک نہیں کیا جا سکتا چونکہ حی علی الصلوۃ کی ندا سن کر اس کی تعمیل کرنا فرض ہے، اس لئے ان الفاظ کی جگہ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ کا حکم ایک الگ نوعیت رکھتا ہے اور اس حکم کی تعمیل بھی اطاعت الہی میں شامل ہے۔کیونکہ یہ سہولت بھی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی ہے۔مسلمان نہ اپنی مرضی سے جمعہ کے لئے مسجد میں آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے بارش کے وقت گھر میں نماز پڑھتا ہے وہ حکم کی تعمیل کرتا ہے۔جیسا بھی ہو اس لئے وہ دوسری حالت میں بھی فریضہ کو ترک نہیں کر رہا ہوتا۔کیونکہ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ کے الفاظ اس کو مسجد میں حاضر ہونے کی دعوت نہیں دے رہے ہوتے۔جس سے اس کو ترک فریضہ کا مرتکب سمجھا جائے بلکہ کہو اُسے کہا گیا ہے کہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے۔