صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 295
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۹۵ ۱۱ - كتاب الجمعة وَالْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ سے روایت کہ وہ کہتے تھے: حضرت عمر کی ایک بیوی فَقِيلَ لَهَا لِمَ تَخْرُ جِيْنَ وَقَدْ تَعْلَمِيْنَ أَنَّ تھیں جو مسجد میں صبح اور عشاء کی نماز باجماعت پڑھا عُمَرَ يَكْرَهُ ذَلِكَ وَيَغَارُ قَالَتْ وَمَا کرتی تھیں۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ تم کیوں باہر نکلتی يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْهَانِي قَالَ يَمْنَعُهُ قَوْلُ ہو۔ حالانکہ تم جانتی ہو کہ دہ ہو کہ حضرت عمرؓ اسے ناپسند کرتے رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَمْنَعُوْا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ ۔ اطرافه: ٨٦٥، ۸۷۳، ۸۹۹، ۵۲۳۸ ہیں اور وہ غیرت کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: پھر انہیں کیا رکاوٹ ہے کہ مجھے روک دیں۔ انہوں نے کہا: انہیں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان روکتا ہے کہ مسجد میں اللہ کی باندیوں کو آنے سے مت روکو۔ تشريح : هَلْ عَلَى مَنْ لَّا يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ غُسُلٌ مِنَ النِّسَاءِ وَالصَّبْيَانِ وَغَيْرِهِمُ: عنوان باب قائم کرتے ہوئے حضرت ابن عمر کے اس قول کا حوالہ دیا ہے جو امام بیھقی سے صحیح سند کے ۳۶ ۱۷۵ ساتھ مروی ہے۔ (سنن الكبرى للبيهقى، كتاب الجمعة، باب من أتى الجمعة من أبعد من ذالك جزء ۳ صفحه ۵ روایت نمبر ۵۳۸۸) فقہاء کے نزدیک عورتوں، بچوں اور بیماروں پر جمعہ واجب نہیں۔ (بداية المجتهد۔ كتاب الصلاة۔ الباب الثالث من الجملة الثالثة۔ الفصل الاول في وجوب الجمعة ومن تجب عليه) لیکن اگر وہ جمعہ میں شریک ہوں تو ان پر صفائی سے متعلق احکام جمعہ عائد ہوں گے۔ روایت نمبر ۸۹۹ اور نمبر ۹۰۰ اس امر کی طرف توجہ دلانے کے لئے نقل کی گئی ہیں۔ روایت نمبر ۸۹۹ کے الفاظ اِنْذِنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ جو شبہ ڈالتے ہیں، وہ مابعد کی روایت سے حل ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ دن کو اجازت نہ دو۔ دن کو تو انہیں کوئی روک نہ تھی بلکہ رات کو انہیں باہر نکلنے سے روکا جاتا تھا۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ عورتوں کو نماز میں شریک ہونے کے لئے رات کو اجازت دو۔ یہ اجازت دن کی اجازت پر بدرجہ اولی دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ حضرت عاتکہ رضی اللہ عنہا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں صبح اور عشاء کے وقت عوالی بستی سے جو مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھی۔ مسجد نبوی میں آ کر با جماعت نماز ادا کیا کرتی تھیں ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۹۳) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو سخت غیور تھے ان کو منع نہیں کیا کرتے تھے۔ پس اگر رات کی تخصیص کا یہ مفہوم ہوتا کہ عورتیں دن کو باہر نہیں جاسکتیں تو جمعہ چونکہ دن کے وقت ہوتا ہے، اس لئے جمعہ میں ان کی شرکت بھی ممنوع قرار دی جائے گی ۔ جو درست استدلال نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں حضرت عمر کو حق پہنچتا تھا کہ وہ حضرت عاتکہ رضی اللہ عنہا کو صبح کی نماز میں شریک ہونے سے بھی روک دیتے ۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ارشاد نبوی لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ ان کے مد نظر تھا۔