صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 212 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 212

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱۲ ١٠ - كتاب الأذان الْخَطْمِي حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبِ نے عبداللہ بن یزید عظمی سے روایت کی کہ انہوں وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي نے کہا: ) حضرت براء بن عازب نے ہم سے بیان خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَالَ کیا اور وہ غلط نہ کہتے تھے۔ کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب آپ ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے تو ہم میں سے کوئی اپنی پیٹھ نہ جھکاتا، جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جَبْهَتَهُ عَلَى الْأَرْضِ۔ اطرافه: ٦٩٠، ٧٤٧ زمین پر اپنی پیشانی نہ رکھ دیتے۔ نے کوئی نہ کوئی م آداب عبادت کے اظہار میں ہر مذہب وملت نے کوئی تشريح : السُّجُودُ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُم: طریقہ مقرر کر رکھا ہے۔ مگر اسلام نے جو طریقہ جاری کیا ہے، وہ ایک جامع طریقہ ہے۔ اس میں تعظیم کی تمام شائستہ ہمیشیں شامل ہیں۔ ہاتھ باندھ کر ادب سے کھڑا ہونا، جھکنا ، سجدہ کرنا، دوزانو ہو کر بیٹھنا۔ سجدہ کی مذکورہ بالا صورت سب سے بہتر ہے۔ کیا بلحاظ جسمانی ہیئت اور کیا بلحاظ عبودیت کا انتہائی درجہ نمایاں ہونے کے انسان میں خشوع خضوع کی کیفیات اس وضعیت سے بالطبع پیدا ہوتی ہیں۔ لَا نَكُتُ ثَوْبًا وَلَا شَعَرًا : کپڑے اور بال سمیٹنے سے اس لئے منع فرمایا ہے کہ توجہ بلتی اور اصل مقصود فوت ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے کپڑوں یا بالوں کے خراب ہونے کی فکر میں ہوگا اس میں توجہ الی اللہ اور عاجزی وزاری کہاں ، ہوگی ؟ سجدہ کی حالت تو خودی ملیا میٹ کرتی ہے۔ خودی اور سجدہ ضدین ہیں۔ پیدا بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ پیشانی کا زمین سے چھونا ہی واجب ہے، دوسرے اعضاء کا نہیں۔ یعنی ان کی شمولیت بطور وجوب کے نہیں، بلکہ علی سبیلِ استعانت ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت نمبر ۸۱۰۰۸۰۹ پیش کر کے مذکورہ بالا اعضاء کی شمولیت کے وجوب کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ جیسا کہ الفاظ اُمِرُنَا أَنْ نَّسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُم اس وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔ ورنہ پھر میز کرسی پر بیٹھ کر سجدہ کرنا بھی جائز سمجھا جائے گا۔ روایت نمبر ۸۱۱ میں اختصار ہے اور پہلی روایت میں تفصیل اور یہ روایتیں ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ۳۸۴) یہ سوال کہ ان اعضاء کے بل سجدہ کرنے کا حکم کہاں ہے؟ اس کے جواب میں بعض علماء نے یہ آیت پیش کی ہے: وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا - ( الجن (19) { اور یقینا مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں پس اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔} مؤلف لسان العرب نے مساجد کے معنوں میں جسم کے وہ اعضاء بھی شامل کئے ہیں جن پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ (لسان العرب - زیر لفظ سَجَدَ )