صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 639
ری جلد ا ۶۳۹ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة جَلِيْسَهُ وَيَقْرَأُ فِيْهَا مَا بَيْنَ السِّمِّيْنَ نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آنتوں تک پڑھتے تھے۔إِلَى الْمِائَةِ وَيُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھا کرتے اور اسی الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ وَأَحَدُنَا يَذْهَبُ طرح عصر ایسے وقت میں پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی (عصر پڑھ کر ) مدینہ کے پر لے کنارے جاتا پھر وہ لوٹ آتا اور سورج ابھی روشن ہوتا اور میں بھول گیا ہوں جو (حضرت ابو برزہ) نے مغرب سے متعلق کہا تھا اور آپ رات کی تہائی تک عشاء میں تاخیر کرنے ثُمَّ قَالَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ وَقَالَ مُعَاذْ کی پرواہ نہ کرتے۔پھر (ابومنہال نے ) کہا: رات قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيْتُهُ مَرَّةً فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ کے نصف تک اور معاذ نے کہا: شعبہ کہتے تھے: میں اُن ( ابو منہال ) سے ایک دفعہ ملا تو انہوں نے کہا: إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجَعَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيْتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيْرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ اللَّيْلِ۔رات کی تہائی تک۔اطرافه ٥٤٧، ٥٦٨، ۵۹۹، ۷۷۱۔٥٤٢ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنِ ۵۴۲ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مُقَاتِلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ ہمیں عبداللہ نے بتایا، کہا: خالد بن عبدالرحمن نے أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہمیں بتایا کہ غالب قطان نے مجھ سے بیان کیا۔حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ عَنْ بَكْرِ بْنِ انہوں نے بکر بن عبد اللہ مزنی سے، بکر نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ انس بن مالک سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللهِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ نمازیں پڑھتے تو ہم گرمی سے بچنے کے لئے اپنے سَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِ۔کپڑوں پر سجدہ کرتے۔اطرافه: ۳۸۵، ۱۲۰۸ استثنائی حالت بیان کرنے کے بعد ظہر کا ابتدائی وقت بتانے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلَّى بِا لَهَا جِرَةِ الْهَاجِرَه دوپہر کو کہتے ہیں جب لوگ گرمی کی وجہ سے کام کاج چھوڑ کر آرام کرتے ہیں۔عنوان باب میں حضرت جابر بن عبد اللہ کا حوالہ باب کا اصل مقصد واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ عام حالات میں جبکہ گرمی معتدل ہو آپ کی عادت یہی تھی کہ آپ ظہر کے ابتدائی حصہ میں نماز پڑھا کرتے