صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 482
صحيح البخاری جلد ا ۴۸۲ - كتاب الصلوة عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُوْنَ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا اور میں نے لوگوں کو ذَاكَ الْوَضُوْءَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا دیکھا کہ وہ اس وضو کے پانی کے لیے لپک رہے ہیں تَمَسَّحَ بِهِ وَمَنْ لَّمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا جس شخص کو اُس میں سے کچھ مل جاتا وہ اُسے اپنے أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا بدن پر ملتا اور جس کو کچھ نہ ملتا وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا وَخَرَجَ النَّبِيُّ کی تری سے ہی کچھ لے لیتا۔ پھر میں نے حضرت بلال کو دیکھا کہ انہوں نے ایک برچھی لی۔ اور اُسے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا صَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ زمین میں گاڑ دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سرخ جوڑے میں آستین چڑھائے ہوئے نکلے اور اس رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ برچھی کی طرف منہ کرکے ) لوگوں کو دو رکعت نماز يَمُرُّوْنَ مِنْ بَيْنِ يَدَيِ الْعَنْزَةِ۔ پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چار پاؤں کو دیکھا کہ وہ اس برچھی کے سامنے سے گزرتے تھے۔ اطرافه: ۱۸۷ ، ۴۹۵ ، 499 ، 501 ، 633، 634، 3553، 3566، 5786، 5859۔ ی: اگر رفض انتشار خیالات اور توجہ کا بٹ انا نماز کے ٹوٹ جانے کا موجب ہوتا تو پھر وہ توہر وقت وتی رہتی ری ہے خواہ تصویر میں نظر کے سامنے ہوں یا نہ ہوں ۔ نبی ﷺ نے مسجد کو نقش و نگار کرنے اور تصویروں والے کپڑے پہننے پہنے۔ سے صرف اس لئے منع فرمایا ہے کہ تا وہ انتشار خیالات کا مزید باعث باعث نہ نہ بنیں بنیں ۔ ۔ مگر ریشمی کپڑا اس لئے ناپسند نہیں فرمایا کہ وہ نماز میں محل تھا بلکہ کسی اور وجہ سے۔ ورنہ عورتوں کے لئے بھی منع ہوتا۔ احناف سرخ کپڑے میں نماز پڑھنا مگر وہ سمجھتے ہیں۔ امام موصوف جواز کا فتوی دیتے ہیں۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۲۹) روایت نمبر ۳۷۶ میں جس واقعہ کا ۳۷۶ میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ صلح حدیبیہ کے موقع کا ہے۔ باب ۱۸: الصَّلَاةُ فِي السُّطُوْحِ وَالْمِنْبَرِ وَالْخَشَبِ چھتوں اور منبر اور لکڑی پر نماز پڑھنا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَرَ الْحَسَنُ بَأْسًا ابو عبد الله (بخاری) نے کہا کہ حسن بصری حرج نہیں أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى الْجَمْدِ وَالْقَنَاطِرِ وَإِنْ سمجھتے تھے کہ منجمد پانی اور پلوں پر نماز پڑھی جائے۔ جَرَى تَحْتَهَا بَوْلٌ أَوْ فَوْقَهَا أَوْ أَمَامَها خواہ ان کے نیچے یا اوپر یا سامنے پیشاب بہہ رہا ہو۔ إِذَا كَانَ بَيْنَهُمَا سُتْرَةٌ وَصَلَّى أَبُو هُرَيْرَةَ بشرطیکہ ان کے درمیان اوٹ ہو اور حضرت ابو ہریرہ رض