صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 480
صحيح البخاری جلد ا ۴۸۰ - كتاب الصلوة عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ کہا: عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ ابن صہیب نے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے أَنَسٍ كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ سَتَرَتْ بِهِ ہمیں بتلایا کہ حضرت عائشہ کا ایک پردہ تھا جس پر جَانِبَ بَيْتِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تصویریں تھیں۔ انہوں نے اس سے اپنے گھر کے وَسَلَّمَ أَمِيْطِيْ عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا فَإِنَّهُ لَا ایک طرف پردہ کیا ہوا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَزَالُ تَصَاوِيْرُهُ تَعْرِضُ فِي صَلَاتِي۔ اپنے اس پردہ کو ہم سے ہٹا دو کیونکہ اس کی تصویریں طرفه ٥٩٥٩ میری نماز میں وقتا فوقتا سامنے آتی رہتی ہیں۔ تشریح یہ مسلہ بھی اختلافی ہے کہ یا کسی چیزکاعلی الاطلاق مع ہونا اس بات کا ملزم ہے کہ محبت نماز کی خاطر اس سے اجتناب کیا جائے ۔ مثلاً ریشمی کپڑا پہننا منع ہے۔ اگر اس کو پہن کر نماز پڑھی جائے تو کیا نماز درست ہوگی یا نہیں ۔ ایسا ہی آپ نے تصویروں والا کے نے تصویروں والا کپڑا ہٹانے کے لئے فرمایا تو کیا ایسے کپڑوں میں نماز درست ہوگی یا نہیں؟ امام بخاری نے نبی ﷺ کے الفاظ لَا تَزَالُ تَصَاوِيرُه تَعْرِضُ فِي صَلُو تِی سے بیا ، یہ استدلال کیا ہے کہ نماز نہیں ٹوٹتی۔ کیونکہ نماز پڑھتے ہوئے اس کپڑے کی تصویریں آپ کی آنکھوں کے سامنے آتی جاتی تھیں۔ آپ نماز پڑھتے رہے۔ فارغ ہونے کے بعد اس کے ہٹانے کے لئے فرمایا۔ جہاں تک نفس مسئلہ کا تعلق ہے سامنے لڑکا ہوا پر دہ یا پہنا ہوا کپڑا دونوں برابر ہیں۔ اس لئے امام بخاری نے مسئلہ استنباط کرتے وقت پہننے کے کپڑوں کا ذکر کیا ہے۔ امام ابن حجر کا خیال ہے کہ ثوبٌ مُصَلَّبٌ کے الفاظ اس روایت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختیار کئے گئے ہیں جو کتاب اللباس باب ۹۰ : نقض الصور ، حدیث نمبر ۵۹۵۲) میں منقول ہے جس میں یہ ہے: لَمْ يَكُن رَّسُولُ اللهِ الله يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئاً فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا نَقَضَهُ ( فتح البارى جزء اول صفحہ ۶۲۸) جس چیز میں بھی صلیب کی تصویر ہوتی اس کو آپ توڑ دیتے تھے۔ جمہور کا یہ مذہب ہے کہ اگر نفس تصویر یا نقش میں کوئی ایسا معنی ہے جس کا تقاضا ممانعت ہو تو ایسے کپڑے میں نماز درست نہ ہوگی ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۲۷) وَ مَا يُنْهَى عَنْ ذَلِكَ : امام موصوف صحت یا عدم صحت نماز کے فتوی کو نظر انداز کرتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ روایت مذکورہ بالا سے صرف اس قدر ممانعت معلوم ہوتی ہے کہ ایسے کپڑے کو استعمال الموسم نہ کیا جائے۔ لیکن اگر کوئی استعمال کرلے تو نماز فاسد ہونے کا مسئلہ اس سے جزم کے ساتھ مستنبط نہیں کیا جا سکتا۔