صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 379
صحيح البخاري - جلد ا ۳۷۹ ۵- كتاب الغسل بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے ان تینوں فریقوں کا نقطہ نظر پیش کر کے مسئلہ مذکور حل کیا ہے۔ اس باب کی پہلی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف توجہ دلائی ۔ ہے دوسری روایت سے بتلایا ہے کہ یہ وضو وجوب سنت ہے نہ وجوب فرض۔ تیسری روایت آخر میں لاکر طحاوی وغیرہ علماء کا رد کیا ہے جو تَوَضَّاَ کے معانی محض صاف کرنے کے لیتے ہیں نہ کہ شرعی وضو ۔ یہ علماء وَاغْسِلُ ذَكَرَک کا جملہ تَوَضَّاَ کے لیے بطور تشریح کے سمجھتے ہیں۔ روایت نمبر ۲۹۰ میں در حقیقت تقدیم و تاخیر ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن یوسف کی اسی روایت کے مذکورہ بالا الفاظ ابو نوح کی روایت میں تَوَضَّا سے پہلے ہیں۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۱۰-۵۱۱) اور اگر بعد میں بھی ہوں تو اس شاذ روایت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور سنت اور واضح ارشاد کے ماتحت رکھا جائے گا۔ آپ پہلے شرم م گاہ گاہ دھوتے دھوتے اور اور کی پھر ( تَوَضَّاَ لِلصَّلوةِ ) اسی طرح وضو کرتے جو نماز کے لیے کیا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا اختلاف کی مفصل بحث فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۱۰-۵۱۱ اور عمدۃ القاری جز ۳۰ صفحہ ۲۴۵-۲۴۶ میں دیکھیں ) بَابِ ۲۸ : إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ جب اعضائے تناسل ( آپس میں ) مل جائیں حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہم حَدَّثَنَا هِشَامٌ ح سے بیان کیا۔ ۲۹۱: وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ ۲۹۱ نیز ہم سے سے ابونعیم نے بیان کیا۔ انہوں نے هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي ہشام سے۔ ہشام نے قتادہ سے۔ قتادہ نے حسن سے۔ حسن نے ابورافع ہے۔ ابورافع نے حضرت رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب عورت کے الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ چوشانے پر بیٹھ جائے اور پھر اپنی ساری طاقت اس پر تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَهُ صرف کر دے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ عمرو بن وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا مرزوق نے بھی ہشام کی طرح شعبہ سے یہی قَتَادَةُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ مِثْلَهُ۔ (بات) روایت کی اور موسیٰ نے کہا کہ ابان نے ہم طرفه ۱۷۹ سے بیان کیا، کہا : قتادہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ حسن نے اسی طرح ہمیں بتلایا۔