صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 378
صحيح البخاري - جلد ا ۳۷۸ ۵- كتاب الغسل عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبْ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر سونا چاہتے اور آپ غَسَلَ فَرْجَهُ وَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ۔ طرفه ٢٨٦۔ جنبی ہوتے تو اپنی شرمگاہ کو دھوتے اور وضو کرتے جیسا نماز کے لیے کیا کرتے۔ ۲۸۹ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۲۸۹ : ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ جویریہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے نافع سے۔ نافع قَالَ اسْتَفْتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبْ قَالَ نَعَمْ حضرت عمرؓ نے رت عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم سے فتوئی پوچھا : إِذَا تَوَضَّاً۔ آیا ہم میں سے کوئی اس حالت میں کہ وہ جنبی ہوسو جائے۔ فرمایا: ہاں، جب وضو کر لے۔ اطرافه: ۲۸۷، ۲۹۰ ۲۹۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۲۹۰ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ ذَكَرَ عُمَرُ سے۔ ابن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے الله ابْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی کہ وہ کہتے تھے: حضرت عمر بن خطاب نے وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ وہ رات کو جنبی ہو جاتے لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ لَمْ۔ وضو کرو اور اپنی شرم گاہ دھولو اور پھر سو جاؤ۔ اطرافه: ۲۸۷، ۲۸۹ تشريح : الْجُنبُ يَتَوَضًا ثُمَّ يَنَامُ: ستائیسواں باب باندھا ہے جس کا مضمون ممون بظاہر وہی ہے جو 2 ہے جو چھبیسویں باب کا۔ مگر اس میں ایک اختلافی مسئلہ مد نظر رکھ کر اس کا ازالہ کیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کی بناء پر فقہاء نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ آیا یہ وضو جنابت فرض ہے یا مستحب ۔ ایک فریق نے توضا سے جو صیغہ امر ہے وجوب فرض کا استدلال کیا ہے۔ ان کے نزدیک حکم کی تعمیل فرض ہوتی ہے ۔ دوسرا ہوتی ہے۔ دوسرا فریق روایت کی بناء پر روایت کی بناء پر جس میں جملہ شرطیہ ہے وضو کر نا پسندیدہ فعل قرار دیتا ہے۔ ایک تیسرا فریق ہے جو لفظ تَوَضَّاً مجرد دھونے کے معنوں میں لیتا ہے۔ امام