صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 376
صحيح البخاري - جلد ا ۳۷۶ ۵- كتاب الغسل تشريح : الْجُنُبُ يَخْرُجُ وَ يَمْشِي فِي السُّوقِ چو بیسویں باب میں اس خیال کار کیا گیا۔ ں خیال رد ہے کہ جنبی جب تک نہانہ لے، کوئی کام کاج نہ کرے۔ اسلام جنابت کو ایسی ناپاکی نہیں سمجھتا کہ جس کی وجہ سے دوسروں کو چھونا بھی جائز نہ ہو اور جو باہر چلنے پھرنے اور کام کاج کرنے سے مانع ہو۔ روایت نمبر ۲۸۴ کی شرح روایت نمبر ۲۶۷ میں دیکھیں۔ وہاں تفصیل سے بتلایا گیا ہے کہ طواف کرنے سے مراد صرف خبر گیری ہے اور یہ کہ صرف قیاس کیا گیا ہے کہ اس اثناء میں آپ نے کسی بیوی سے مباشرت بھی کی ہو۔ عنوان باب کے ماتحت یہ روایت اس لیے لائی گئی ہے کہ جنبی کے لیے کام کاج کرنا ممنوع نہیں اور باب میں عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کا فتوی نقل کر کے یہ بتلایا گیا ہے کہ کام کاج کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ وضو ہی کرے۔ حسن بصری وغیرہ وضو کرنا مستحب سمجھتے تھے ۔ (عمدۃ القاری جزء سوم صفحه ۲۴۰) مگر حضرت انس کی اس روایت میں وضو کا کہیں ذکر نہیں ۔ روایت نمبر ۲۸۵ کا مضمون روایت نمبر ۲۸۳ میں گذر چکا ہے۔ بوجہ اختلاف اختلاف سند کے کچھ لفظی تغیر ہے۔ بَاب ٢٥ : كَيْنُوْنَةُ الْجُنُبِ فِي الْبَيْتِ إِذَا تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ جنبی کا گھر میں ہونا جبکہ وہ نہانے سے پہلے وضو کر لے ٢٨٦ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۲۸۶ ابو میم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام اور هِشَامٌ وَ شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ شیبان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کی ہے۔ بچی نے قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابوسلمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا: آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت میں سویا کرتے تھے کہ آپ جنبی ہوں تو انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَتْ نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ ۔ نے کہا: ہاں اور آپ وضو کر لیا کرتے تھے۔ طرفه ۲۸۸ تشريح : كَيْنُونَةُ الْجُنُبِ فِي الْبَيْتِ: اس باب کے باندھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ حضرت علی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: لَا تَدْخُلُ الْمَلِئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَ لَا كَلْبٌ وَلَا جنب۔ (ابوداؤد، كتاب اللباس، باب في الصور) یعنی ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر یا جنبی ہو۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ روایت کمزور ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۰۸) یہودیوں کے نزدیک وہ جگہ بھی ناپاک ہوتی تھی جہاں جنبی کھڑا ہوتا تھا۔ اس قسم کے خیالات عربوں میں بھی موجود تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان میں اس قسم کی روایتیں پائی جاتی تھیں اور ایسے مسائل پوچھے جاتے تھے۔ روایت نمبر ۲۸۶ سے ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے کے متعلق پوچھا گیا تھا اور باب کا عنوان یہ قائم کیا گیا ہے : كَيْنُونَةُ الْجُنُبِ فِي الْبَيْتِ بَيْت عربی میں سونے کے کمرہ کو کہتے تھے اور دار کا لفظ گھر کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوانِ باب میں