صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 374 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 374

صحيح البخاری جلد ا ۳۷۴ ۵- كتاب الغسل بَاب ۲۳ : عَرَقُ الْجُنُبِ وَأَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ جنبی کا پسینہ اور یہ کہ مسلمان پلید نہیں ہوتا ۲۸۳ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ۲۸۳ : ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ کی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حمید نے حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہم سے بیان کیا، کہا: بکر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو رافع سے ۔ ابو رافع نے حضرت ابو ہریرہ سے أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي بَعْضٍ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ کسی جگہ پر انہیں ملے اور وہ جنبی تھے۔ (وہ کہتے تھے :) فَانْخَنَسْتُ مِنْهُ فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ میں آپ سے جھجک کر پیچھے ہٹا اور پھر وہ گئے اور فَقَالَ أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ نہائے اور اس کے بعد آئے تو آپ نے فرمایا : جُنُبًا فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ وَأَنَا عَلَى ابو ہریرہ ! تم کہاں تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں جنبی تھا روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے راستے پر غَيْرِ طَهَارَةٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اللهِ إِنَّ اس لیے میں نے ناپسند کیا کہ میں آپ کے ساتھ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ۔ بیٹھوں در آنحالیکہ میں ناپاک ہوں ۔ آپ نے فرمایا: سُبْحَانَ اللهِ مومن تو نا پاک نہیں ہوتا۔ طرفه ٢٨٥ : جنبی تشریح : إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ : اس کتاب کے شروع میں فصل بتایا جاچکا ہے کہ منی کے پلید ہونے کے متعلق کیا کیا خیالات پائے جاتے تھے جن کی اصلاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ۔ امام بخاری غسل جنابت کے متعلق احکام شریعت اور سنت نبویہ پیش کرنے کے بعد یہاں ان لغو خیالات کی تردید کرنا چاہتے ہیں ۔ روایت نمبر ۲۸۳ سے بتلایا ہے کہ مومن بوجہ جنابت کے ناپاک نہیں ہوتا۔ کافر بھی ہوجہ جنابت نہیں بلکہ گندے خیالات کی وجہ سے ناپاک ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں پسینہ کا ذکر نہیں۔ مگر امام بخاری نے ضمنا استدلال کرتے ہوئے رائج شدہ خیال کا رد کیا ہے۔ یعنی جب مومن پاک ہے تو پھر جنابت کی وجہ سے اس کا پسینہ بھی ناپاک نہ ہوگا۔ پسینے کی حالت جنابت میں بھی وہی رہتی ہے جو جنابت سے پہلے ہوتی ہے۔ روایت مذکورہ بالا میں لفظ فَانْخَنَسْتُ بعض نسخوں میں فَانْتَجَسْتُ ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں : میں اپنے آپ کو نا پاک سمجھ کر الگ ہو گیا۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۰۶)