صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 373 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 373

صحيح البخاري - جلد ا -۵- كتاب الغسل اور انہیں ایک دوسرے سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں۔روایت نمبر ۲۸: یہ روایت باب ۵ (العُسْلُ مَرَّةً وَّاحِدَةً ) میں بھی آچکی ہے۔الفاظ میں جزئی تغیر ہے۔بَابِ ۲۲ : إِذَا احْتَلَمَتِ الْمَرْأَةُ جب عورت کو احتلام ہو ۲۸۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۸۲ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِ سے۔ہشام نے اپنے باپ سے۔ان کے باپ نے سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ حضرت ابوسلمہ کی بیٹی حضرت زینب سے۔حضرت سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ نیب نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ کی کہ وہ کہتی تھیں : حضرت ابوطلحہ کی بیوی حضرت اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ هَلْ عَلَى امّ سليم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلِ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ فَقَالَ اور کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔کیا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا عورت بھی نہائے جب اسے احتلام ہو؟ رسول اللہ رَأَتِ الْمَاءَ۔صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔جب پانی دیکھے۔اطرافه: ۱۳۰، ۳۳۲۸، ٦۰۹۱، ٦١٢١۔تشریح: إِذَا احْتَلَمَتِ الْمَرْأَةُ: بائیسواں باب باندھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ عورت کو احتلام نہیں ہوتا۔اس لیے وہ روایت مذکورہ بالا کو بھی صحیح نہیں سمجھتے مگر ان کا یہ خیال غلط ہے۔امام بخاری اور مسلم رحمۃ اللہ علیہا دونوں اس کی صحت پر متفق ہیں اور دیگر محدثین نے بھی اسے نقل کیا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھنے فتح الباری جزء اول صفحه ۵۰۴-۵۰۵) اِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحْيِ مِنَ الْحَقِّ کا مفہوم روایت نمبر ۶۶ میں دیکھا جائے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالی حق سے تو نہیں شر ما تا مگر ناحق سے شرماتا ہے بلکہ یہ معانی ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق بات پوچھنے میں شرم وحیا کو پسند نہیں کرتا۔( فتح الباری جزء اول صفحه ۵۰۴)