صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 362
صحيح البخاري - جلد ا ۳۶۲ ۵ - كتاب الغسل يَقْطُرُ فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ تَابَعَهُ عَبْدُ آپ واپس چلے گئے۔آپ نے غسل کیا۔پھر الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرَوَاهُ ہمارے پاس باہر آئے اور آپ کے سرسے ( پانی کے ) الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔اطرافه: ٦٣٩ ، ٦٤٠۔قطرے ٹپک رہے تھے۔آپ نے اللہ اکبر کہا اور ہم نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔عبدالاعلیٰ نے معمر سے۔معمر نے زہری سے بھی اسی طرح یہ (بات) روایت کی اور اوزاعی نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کی۔تشریح : إِذَا ذَكَرَ فِي الْمَسْجِدِ أَنَّهُ جنب : جنسی کے مسجد میں داخل ہونے یا نہ ہونے کے متعلق بھی اختلاف ہے۔لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَانْتُمُ كرى۔۔۔وَلَا جُنُبا۔۔۔(النساء :۴۴۰) میں الصلوة سے بعض نے نماز گاہ بھی مراد لی ہے اور إِلَّا عَابِرِی سَبِیل کے یہ معنے کئے ہیں کہ سوائے اس کے کہ جن کی گذرگاہ مسجد میں سے ہو وہ گذر سکتے ہیں اور بعض نے لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ سے مطلق نماز نہ پڑھنے کا حکم مراد لیا ہے۔ان کے نزدیک اس آیت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ جنبی مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا۔ایک تیسرا گروہ ہے جس نے گذرنا بھی جائز نہیں سمجھا۔اور ان کے نزدیک إِلَّا عَابِرِی سَبیلِ سے مراد وہ مسافر ہیں، جن کو پانی نہ ملے۔ان کے لیے نماز پڑھنا جائز ہے۔یہ فریق اپنے اس قیاس کی بنیاد ایک روایت پر رکھتا ہے اور وہ یہ ہے: لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِجُنُبِ وَلَا حَائِضِ ـ یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں مسجد کو جنبی اور حائضہ کے لیے جائز نہیں قرار دیتا۔مگر یہ روایت ثابت نہیں۔(تفصیل کے لیے دیکھئے بداية المجتهد كتاب الغسل۔الباب الثالث في احكام هذين الحديثين۔المسئلة الأولى۔الجزء الاول۔صفحة ٢٧) تشدد کرنے والوں نے یہاں تک تشدد کیا ہے کہ اگر جنسی بھول کر بھی مسجد میں داخل ہو جائے تو ان کے نزدیک وہ تیم کرے اور باہر چلا جائے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے انہی لوگوں کا خیال مد نظر رکھ کر یہ عنوان باب قائم کیا ہے: يَخْرُجُ كَمَا هُوَ وَلَا يَتَيَمَّمُ۔جس حالت میں ہو باہر چلا جائے اور تقسیم نہ کرے۔اس ضمن میں جو روایت پیش کی گئی ہے اس میں صرف یہ ذکر ہے کہ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تھے یاد آنے پر آپ گھر لوٹ گئے اور نہا کر نماز پڑھی۔یہ روایت مذکورہ بالا خیال کی تائید نہیں کرتی بلکہ اس کے خلاف ہے۔شریعت اسلامیہ جنبی کے وجود کو جنابت کی وجہ سے گوبر اور پیشاب وغیرہ اشیاء کی طرح نا پاک نہیں سمجھتی کہ جس کے چھونے سے لوگ نا پاک ہو جاتے ہیں اور وہ جگہ بھی ناپاک ہو جاتی ہے جس میں وہ داخل ہو۔یہ جہالت کا خیال ہے صیح ثابت شدہ روایتیں اس غلو آمیز اعتقاد کی تردید کرتی ہیں۔اس باب اور روایت نمبر ۲۷۵ سے قارئین کو واضح طور پر یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ عنوان باب ہمیشہ اس غرض کے لیے نہیں قائم کرتے کہ کوئی مسئلہ ثابت کرتا ہے بلکہ بعض وقت ایک غلط خیال پیش کر کے اس کی تردید کرنا مقصود ہوتا ہے۔