صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 361 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 361

صحيح البخاري - جلد ا ۵- كتاب الغسل تشريح : وَلَمْ يُعِدُ غَسَلَ مَوَاضِعِ الْوُضُوءِ باب کا وعنوان قائم کیا قائم کیا گیا ہے اس کے خلاف روایت نمبر ۲۷۴ کا مضمون - ضمون ہے۔ یعنی یہ کہ نبی ﷺ نے پہلے و نے پہلے وضو کیا پھر سر پر پانی بہایا ۔ ثُمَّ غَسَلَ جَسَدَهُ - پھر اپنا روایت عليه ۔ بدن دھویا ۔ اس میں جسم کے دھونے کا ذکر ہے جس میں وہ اعضاء بھی شامل ہیں جو وضو میں پہلے دھوئے گئے تھے۔ سابقہ نمبر (۲۷۲) میں یہ الفاظ ہیں ۔ ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ - یعنی سر دھونے دھونے ۔ کے بعد پھر باقی ماندہ سارا جسم دھو دھویا دھویا۔ با گویا ۔ عنوان باب ؛ روایت نمبر ۲۷۲ کو مد نظر رکھ کر بطور وضاحت کے قائم کیا گیا ہے۔ یعنی جَسَدَہ سے مراد باقی ماندہ جسم ہے۔ نیز اس روایت سے سے ا ایک لطیف استدلال بھی کیا ہے اور وہ یہ کہ چونکہ آنحضرت رت علی علی نے اعضاء وضو میں سے صرف پاؤں ہی دھوئے ہیں جو وضو کرتے وقت نہیں دھوئے گئے تھے۔ اس لیے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ محض نہانے سے وضو کا اصل مفہوم ادا نہیں ہوتا ۔ ہوتا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ بھی ثابت ہوا کہ غَسَلَ جَسَدَہ سے سارے جسم کا دھونا مراد نہیں ورنہ یہ اور نہ پاؤں کے الگ دھونے کا پاؤں ۔ ذکر علیحدہ نہ ہوتا ۔ امام بخاری کے نزدیک وضو اور غسل بالکل علیحدہ علیحد علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں ۔ نہاتے ہاتے وقت وضو کی نیت کر لینا وضو کا قائم مقام نہیں ہو سکتا اور نہ وضو کر کے غسل میں اعضاء وضو ترک کر دینا فسل کا مفہوم پورے طور پر ادا کرتا ہے حضرت عائشہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما دونوں کی روایتیں بتلاتی ہیں کہ آپ وضو کرنے کے بعد سارا جسم دھویا کرتے تھے۔ باب ۱۷ إِذَا ذَكَرَ فِي الْمَسْجِدِ أَنَّهُ جُنُبٌ يَخْرُجُ كَمَا هُوَ وَلَا يَتَيَمَّمُ جب مسجد میں یاد آئے کہ وہ جنبی ہے تو جس حالت میں وہ ہو باہر چلا جائے اور تیمیم نہ کرے ٢٧٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ۲۷۵: ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: عثمان حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے ہمیں بتلایا۔ يُؤْنُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِلَتِ نے حضرت ابو ہریرہ " رت ابو ہریرہ سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے: نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی گئی اور صفیں جبکہ لوگ الصُّفُوفُ قِيَامًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ المراحم کھڑے ہو گئے سیدھی کی گئیں اور رسول اللہ علی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ فِي ہمارے پاس باہر آئے۔ جب آپ اپنی نماز کی جگہ مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبْ فَقَالَ لَنَا مَكَانَكُمْ کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں۔ ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ آپ نے ہمیں فرمایا: اپنی جگہ کھڑے رہو ۔ ( یہ کہ کر )