صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 351 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 351

صحيح البخاری جلد ا ۳۵۱ ۵- كتاب الغسل حوالہ بھی اسی وسعت نظر پر روشنی ڈالنے کے لیے دیا گیا ہے۔جو صحابہ کرام میں آنحضرت ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی برکت سے پیدا ہوئی تھی۔یعنی یہ کہ جنابت اپنی ذات میں ناپا کی نہیں، یہاں تک کہ پانی کے جو چھینٹے جنبی کے بدن سے ادھر ادھر پڑتے تھے وہ بھی نا پاک نہ سمجھے جاتے تھے۔یہود اور عربوں کے نزدیک چھینٹا پڑنا تو بہت بڑی بات تھی۔جنبی کے چھونے سے بھی چیز ناپاک ہو جاتی تھی۔صحابہ کرام کے زاویہ نگاہ میں یہ تبدیلی اس اصلاح کی عظمت کو بتلاتی ہے جو آنحضرت علا اللہ کے ذریعہ سے ہوئی۔چھوٹی چھوٹی باتوں کا استیصال جو مدت مدید سے فطرتوں میں گڑ چکی ہوں ؛ نہائیت دشوار کام ہے۔باب ۱۰: تَفْرِيْقُ الْغُسْلِ وَالْوُضُوْءِ غسل اور وضو الگ الگ کرنا وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ غَسَلَ قَدَمَيْهِ اور حضرت ابن عمر کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دونوں پاؤں اس وقت دھوئے جب بَعْدَ مَا جَفَّ وَضُوءُهُ۔وضو کا پانی خشک ہو چکا تھا۔٢٦٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبِ :۲۶۵: ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ اعمش نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے سالم بن ابی جعد كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ سے۔سالم نے حضرت ابن عباس کے مولی کریب قَالَ قَالَتْ مَيْمُوْنَةُ وَضَعْتُ لِرَسُوْلِ اللَّهِ ہے۔کریب نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ حضرت میمونہ نے کہا: میں نے مَاءً يَغْتَسِلُ بِهِ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ أَوْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا کہ آپ اس سے نہا ئیں۔آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر ثَلَاثًا ثُمَّ أَفْرَغَ بِيَمِيْنِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ پانی ڈالا اور انہیں دو دو یا تین بار دھویا۔پھر اپنے مَذَاكِيْرَهُ ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ شرم گاہ کی جگہیں دھوئیں۔پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا۔وَيَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ رَأْسَهُ ثَلَاثَاثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیا۔پھر اپنا منہ اور دونوں