صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 350 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 350

صحيح البخاري - جلد ا ۳۵۰ ۵- كتاب الغسل ٢٦٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا :۲۶۴: ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ہمیں بتلایا۔انہوں نے عبداللہ بن عبد اللہ بن جبر قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ سے روایت کی۔کہتے تھے کہ میں نے حضرت انس بن مالک کو یہ کہتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ کی بیویوں میں سے کوئی بیوی ایک ہی برتن سے نِسَائِهِ يَعْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَّاحِدٍ زَادَ اکٹھے نہایا کرتے تھے۔مسلم اور وہب ( بن جریر ) نے مُسْلِمٌ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ مِنَ الْجَنَابَةِ۔شعبہ سے روایت کرتے ہوئے ”مِنَ الْجَنَابَةِ “ کے “ الفاظ بڑھائے۔هَلْ يُدْخِلُ الْجُنُبُ يَدَهُ فِى الْإِنَاءِ: اس باب میں امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بتلایا ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے حالت جنابت اپنی ذات میں ناپاک نہیں اور جنبی کا ہاتھ اگر صاف ستھرا ہو تو وہ نہانے کے لیے برتن سے پانی چلو بھر کر لے سکتا ہے۔یعنی محض جنابت کی وجہ سے وہ ناپاک نہیں ہوتا کہ برتن کو بھی نہ چھوئے۔اس باب کے ضمن میں چار روایتیں لائی گئی ہیں۔پہلی روایت کا یہ مضمون ہے کہ مرد اور عورت دونوں برتن سے پانی لے سکتے ہیں۔عورت کے چھونے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا جیسا کہ مرد کے چھونے سے نہیں ہوتا۔یعنی اسلام میں چھوت نہیں۔دوسری روایت کا یہ مضمون ہے کہ نبی ﷺ نہاتے وقت اپنا ہاتھ دھو لیتے تھے۔تیسری روایت کا مضمون یہ ہے کہ حضرت عائشہ اور نبی یہ دونوں حالت جنابت میں اکٹھے نہایا کرتے اور دونوں ایک ہی برتن سے پانی لیا کرتے تھے۔ان کے چھونے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا تھا۔چوتھی روایت کا یہ مضمون ہے کہ صرف حضرت عائشہ کے ساتھ ہی یہ خصوصیت نہ تھی بلکہ تمام بیویوں کے ساتھ آپ کا ایسا ہی معاملہ تھا۔ان میں سے ہر ایک برتن سے پوری آزادی کے ساتھ پانی لیتی تھی۔یہ آزادی بعض دوسری قوموں کی عورتوں کو حاصل نہیں۔نہ جنابت کی حالت میں اور نہ طہر کی حالت میں۔عورت اور جنابت کے متعلق نفرت آمیز احساسات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی مٹائے۔ورنہ جنس لطیف اس سے پہلے جنبی کی ہی طرح ایک نا پاک وجود سمجھی جاتی تھی۔أَدْخَلَ ابْنُ عُمَرَ وَالْبَرَاءُ بُنُ عَازِبٍ يَدَهُ فِى الظُّهُورِ : عنوان باب میں حضرت ابن عمر اور حضرت براء بن عازب کا یہ حوالہ جو دیا گیا ہے کہ انہوں نے صاف ستھرا ہاتھ جو بغیر دھوئے کے برتن میں ڈالا اور اس میں سے لے کر وضو کیا، یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ صحابہ کرام بھی جنابت کے مسئلہ میں وسعت نظر سے کام لیتے تھے۔گان رَسُولُ اللهِ اللهِ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ عَسَلَ يَدَهُ - یعنی رسول الله یہ غسل جنابت میں پہلے اپنے ہاتھ دھوتے۔اس مفہوم کی روایتیں زیر بحث مسئلہ کے خلاف نہیں۔کیونکہ یہ صرف اس قدر بتلاتی ہیں کہ نبی سے نسل کی ابتداء وضو سے کرتے ، جس میں ہاتھ پہلے دھوئے جاتے ہیں۔عنوانِ باب میں حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباس کے فتویٰ کا