صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 344 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 344

صحيح البخاری جلد ا نهم سلام سلام بَابه : الْغُسْلُ مَرَّةً وَّاحِدَةً ایک ہی دفعہ نہانا ۵- كتاب الغسل ٢٥٧ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۲۵۷ ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنِ الْأَعْمَشِ عبدالواحد نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعمش سے۔عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ اعمش نے سالم بن ابی جعد سے۔سالم نے کریب ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ مَيْمُوْنَةُ وَضَعْتُ ہے۔کریب نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: حضرت میمونہ نے کہا: میں نے نبی لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً لِلْغُسْلِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَاثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہانے کا پانی رکھا تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دو یا تین دفعہ دھوئے۔پھر آپ شِمَالِهِ فَغَسَلَ مَذَاكِيْرَهُ ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ نے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا۔پھر اپنی شرم گاہ بِالْأَرْضِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ھوئی۔پھر اپنا ہاتھ زمین پر ملا۔پھر کلی کی اور ناک میں وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى پانی لیا اور اپنا منہ اور دونوں ہاتھ دھوئے۔اس کے جَسَدِهِ ثُمَّ تَحَوَّلَ مِنْ مَّكَانِهِ فَغَسَلَ بعد آپ نے اپنے جسم پر پانی ڈالا پھر اپنی جگہ سے ایک طرف ہو گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔قَدَمَيْهِ۔اطرافه: ٢٤٩، ٢٥٩، ٢٦٠ ، ٢٦٥، ٢٦٦، ٢٧٤، ٢٧٦، ٢٨١۔تشریح : الغُسْلُ : مَرَّةً وَّاحِدَةً سابقہ روایات سے نیز حدیث نمبر ۲۵۴ سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ نہانے سے مراد جسم پر صرف ایک بار پانی ڈال لینا ہے۔مگر ایسا نہیں بلکہ الْغُسْلُ مَرَّةً وَّاحِدَةً سے مراد وہ ہے جس کی تشریح روایت نمبر ۲۵۷ کرتی ہے۔یعنی آپ نے پہلے ہر ایک عضو علیحدہ علیحدہ دھویا اور پھر اس کے بعد اپنے جسم پر پانی بہا دیا اور نہانے میں عموماً یہی کیا جاتا ہے۔اعمش کی یہی روایت باب ۱۶ میں بھی دہرائی گئی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں: ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثُمَّ غَسَلَ جَسَدَهُ - یعنی آپ نے سر پر پانی ڈالا اور پھر اپنا سارا جسم دھویا۔باب ۵ میں امام بخاری سابقہ روایات سے پیدا شدہ وہم کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔اس سے کوئی ایسا مسئلہ استنباط کرنا مقصود نہیں جس کی طرف ابن بطال کا خیال گیا ہے۔چونکہ آفَاضَ عَلَى جَسَدِہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سارے جسم پر پانی بہایا اور یہ مذکور نہیں کہ کتنی دفعہ بہایا تو بعض شارحین اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایک دفعہ پانی بہانے پر اکتفاء کرنا چاہیے۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۴۷۹) مگر حقیقت یہ ہے کہ مشار الیہ وہم کا رڈ کرنا مقصود ہے جیسا کہ اگلے باب میں بھی اسی قسم کے خیال کی تردید کی گئی ہے۔