صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 343
صحيح البخاري - جلد ا سموم سم ۵- كتاب الغسل الْحَنَفِيَّةِ قَالَ كَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ محمد بن حنفیہ کی طرف اشارہ تھا۔اس نے پوچھا : الْجَنَابَةِ فَقُلْتُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله جنابت کا غسل کس طرح کیا جائے ؟ میں نے کہا: نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ ثَلَاثَةَ أَكُفِّ صلی اللہ علیہ وسلم تین چلولیا کرتے تھے اور ان کو اپنے فَيُفِيْضُهَا عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ يُفِيْضُ عَلَى سر پرڈالتے پھر اپنے سارے جسم پر پانی ڈالتے۔اس سَائِرِ جَسَدِهِ فَقَالَ لِي الْحَسَنُ إِنِّي پرحسن نے مجھے کہا: میں بہت بالوں والا آدمی ہوں تو رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعَرِ فَقُلْتُ كَانَ النَّبِيُّ میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے زیادہ بالوں أَكْثَرَ مِنْكَ شَعَرًا۔اطرافه: ٢٥٢، ٢٥٥۔والے تھے۔تشريح : مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَا ا ا ا ا ر م م ا ا ا ا ا ہ ک ی ا للہ علیہ وسلم نانے میں طاق عدد لحوظ رکھتے تھے جیسا کہ وضو میں بھی۔(دیکھئے تشریح کتاب الوضو، باب ۲۵،۲۴) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت نمبر ۲۴۸ سے بھی اور اس باب کی تین روایتوں سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔پہلی روایت کا مضمون یہ ہے کہ آپ نہانے میں تین بار چلو بھر کر پانی سر پر ڈالتے تھے۔افَاضَ اس جگہ افرغَ کے معانی میں ہے، یعنی ڈالا۔اس سے مراد صرف پانی بہانا نہیں، بلکہ خود امام بخاری نے دوسری روایت سے اس لفظ کی تشریح بایں الفاظ کی ہے۔يُفْرِغْ عَلى رَأْسِهِ ثَلاثًا۔یعنی اپنے سر پر تین بار پانی ڈالا کرتے تھے۔آفَاضَ الْمَاءَ عَلَى نَفْسِهِ أَى أَفْرَغَهُ۔یہاں أَفَاضَ بمعنی افرغ ہے (لسان العرب زیر مادہ فیض ) اس لیے اس لفظ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ نہانے سے مراد جسم پر صرف پانی بہا لیتا ہے۔- تیسری روایت لا کر یہ بتلایا ہے کہ سرکو تین بار پانی ڈال کر دھونے کے بعد سارے جسم پر پانی ڈالا کرتے تھے۔حسن بن محمد بن حنفیہ کا خیال تھا کہ اس قدر پانی ان کے بال بگھونے اور دھونے کے لیے کافی نہیں۔اگر صرف پانی بہانا مراد ہوتا تو ان کا یہ خیال درست تھا، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہم پڑھ چکے ہیں : يُخَلِلُ بِهَا أُصُولَ الشَّعْرِثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ (كتاب الغسل باب ا : الوضوء قبل الغسل۔روایت نمبر ۲۴۸) پہلے انگلیوں سے بالوں میں خلال کر کے ان کو اچھی طرح تر کر لیتے۔پھر اس کے بعد تین بار پانی ڈال کر سر دھوتے۔اس لیے آپ کو اس قدر پانی کافی ہوتا۔روایت نمبر ۲۵ میں حضرت عائشہ کے متعلق بھی یہ بتلایا گیا ہے۔فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا۔يعنى وه نہا ئیں اور انہوں نے اپنے سر پر پانی ڈالا۔عربی زبان میں غسل کے معنی پانی سے دھو کر میل دور کرنے کے ہیں اور غسیل دھلے ہوئے کپڑے کو کہتے ہیں۔(لسان العرب تحت لفظ غسل)