صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 337
صحيح البخاري - جلد ا ۳۳۷ ۵- كتاب الغسل رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا هَذِهِ غُسْلُهُ مِنَ اپنے اوپر پانی بہا دیا۔پھر آپ نے دونوں پاؤں کو ایک الْجَنَابَةِ۔طرف کر کے ان کو دھویا۔یہ ہے آپ کا غسل جنابت۔اطرافه ،۲۵۷، ۲۵۹، ٢٦۰، ٢٦٥، ٢٦٦، ٢٧٤، ٢٧٦، ٢٨١۔تشریح : الْوُضُوءُ قَبْلَ الْغُسْلِ : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے پہلا باب تقدیم وضو کے متعلق باندھ کر یہ بتلایا ہے کہ غسل جنابت بھی دراصل وضو کا ہی ایک حصہ ہے۔اس لیے غسل جنابت میں وضو پہلے کیا جائے تاکہ روحانی مقصد جو وضو میں مدنظر ہے وہ اس غسل میں بھی مدنظر ر رہے۔(تفصیل کے لیے دیکھئے: تشریح حدیث نمبر ۱۶۰، ۲۴۷) يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلوةِ یعنی آپ نہانے سے پہلے اسی طرح وضو کیا کرتے تھے جس طرح نماز کے لیے۔خواہ نہانے کے بعد آپ نماز پڑھتے ہوں یا نہ۔آپ کا یہ عمل محض اس لیے تھا تا وضو کا اصل مقصد نہانے میں بھی ہمیشہ پیش نظر رہے۔اسی وجہ سے امام موصوف نے الْوُضُوءُ قَبْلَ الْغُسْلِ کا عنوان قائم کر کے تقدیم وضو پر زور دیا ہے۔یہاں کسی اختلافی مسئلہ کا حل کرنا مقصود نہیں ، جیسا کہ امام ابن حزم کا خیال ہے۔اختلافی مسئلہ کا حل تو انہوں نے دسویں باب میں کیا ہے۔جس کا عنوان یہ ہے: تَفْرِيقُ الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ۔دسویں باب میں بھی حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت (نمبر ۲۶۵) حضرت ابن عباس سے نقل کی گئی ہے۔وہاں شرم گاہ دھونے کا پہلے ذکر ہے اور اس کے بعد وضو کرنے کا۔روایت میں یہ جزئی اختلاف مختلف راویوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، ورنہ دراصل ترتیب یہی ہے کہ آپ پہلے شرم گا دھوتے اور پھر وضو کرتے۔محمد بن یوسف کی اس روایت کا جس میں ترتیب نظر انداز کر دی گئی ہے، یہاں ذکر کر نا صاف بتلاتا ہے کہ امام موصوف یہ روایتیں اس غرض سے نہیں لائے کہ غسل جنابت کا طریق بتلائیں یا یہ اختلاف حل کریں کہ آیا نہانے سے وضو ہو جاتا ہے یا یہ کہ وضو الگ کیا جائے بلکہ اس لیے لائے ہیں کہ حضرت عائشہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما کی مختلف روایتوں سے متفق علیہ امر ثابت کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت میں پہلے وضو کیا کرتے تھے اور آپ کا یہ عمل اسی حکیمانہ غرض کے ماتحت تھا جس کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے۔باب ۲ : عُسْلُ الرَّجُل مَعَ امْرَأَتِهِ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ نہانا ٢٥٠ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ :۲۵۰ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا۔کہا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابو ذئب کے بیٹے نے ہمیں بتلایا انہوں نے زہری عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ ہے۔زہری نے عروہ سے۔عروہ نے حضرت عائشہ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ میں اور نبی صلی اللہ