صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 252 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 252

صحيح البخاري - جلد ) ۲۵۲ ۴- كتاب الوضوء تشريح : الْمَضْمَةُ فِي الْوُضُوءِ: مَضْمَضَ کے معنی حَرَّكَ یعنی اس نے حرکت دی اور مَضْمَضَةٌ حرکت دینا، پھرانا، منہ کے عضلات اور زبان سے پانی کو ادھر اُدھر ہلانا ۔ مَجَاج کلی کرنا اور غَرْغَرَ صلى الله غرارہ کرنا۔ امام بخاری نے وضو کے چھوٹے چھوٹے مسائل ( مثلاً کلی کرنا ، ایڑیاں دھونا، ناک میں پانی ڈالنا اور اس کو اچھی طرح صاف کرنا ) بیان کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ شارع اسلام ﷺ کا منشاء یہ ہے کہ وضو نہایت احتیاط سے کرنا چاہیے اور کسی عضو کے دھونے میں کوتاہی نہ ہو۔ چنانچہ غَسْلُ الاعْقاب کا باب ( نمبر ۲۹) قائم کر کے اس میں ابن سیرین کا جو حوالہ دیا ہے، وہ اسی اسی غرض کے سمجھانے کے لئے ہے کہ مَضْمَضَةٌ کے باب میں یہ جو کہا ہے: قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ۔ حضرت ابن عباس کا قول حدیث نمبر ۱۴۰ میں گزر چکا ہے اور حضرت عبداللہ بن زید کا قول آگے حدیث نمبر ۱۸۵ میں آئے گا۔ بَاب ۲۹ : غَسْلُ الْأَعْقَابِ ایڑیاں دھونا وَكَانَ ابْنُ سِيْرِيْنَ يَغْسِلُ مَوْضِعَ اور ابن سیرین جب وضو کرتے تو انگوٹھی کی جگہ کو بھی الْخَاتَمِ إِذَا تَوَضَّأَ ۔ دھویا کرتے ۔ ١٦٥ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۱۶۵ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ شعبہ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: محمد بن زیاد ابْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَكَانَ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّلُوْنَ مِنَ ابوہریرہ سے سنا اور وہ ہمارے پاس سے گزر رہے الْمِطْهَرَةِ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَإِنَّ تھے اور (اس وقت ) لوگ ایک لگن سے وضو کر رہے أَبَا الْقَاسِمِ { } قَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ تھے تو انہوں نے کہا: وضو پورے طور پر کیا کرو۔ کیونکہ مِنَ النَّارِ ۔ صلى الله ابو القاسم (ع) نے فرمایا ہے : ہائے شامت ان ایڑیوں کی آگ سے۔ تشریح : امام بخاری نے ابن سیرین کے متعلق یہ روایت اپنی تاریخ میں اور این ا اریخ میں اور ابن ابی شیبہ نے اپنی تصنیف میں نقل کی ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۵۰) امام موصوف نے ابن سیرین کے اس عمل کا ذکر کر کے امام ابو حنیفہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے مذہب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ثالث صفحہ ۲۳) جس اہم مقصد کا ذکر ابھی اوپر ہو چکا ہے۔ اس پر حضرت ابو ہریرہ کے یہ الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں: أَسْبِعُوا الْوُضُوءَ۔ وضو پورے طور پر