صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 251
صحيح البخاري - جلد ا ۲۵۱ - كتاب الوضوء باب ۲۸: الْمَضْمَضَةُ فِي الْوُضُوْءِ وضو میں کلی کرنا قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَّعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ حضرت ابن عباس اور حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہم اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ۔نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے یہ (مسئلہ) بیان کیا۔١٦٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا :۱۶۴ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيَ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى زُہری نے کہا: عطاء بن یزید نے حضرت عثمان بن عفان کے ( آزاد کردہ) غلام حمران سے روایت کرتے عُثْمَانَ بْن عَفَّانَ أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا ہوئے مجھے بتلایا کہ انہوں نے حضرت عثمان کو دیکھا بِوَضُوْءِ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِيْنَهُ ہاتھوں پر اپنے برتن سے پانی ڈالا اور انہیں تین بار فِي الْوَضُوْءِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ دھویا۔پھر وضو کے پانی میں آپ نے اپنا دائیاں ہاتھ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ڈالا۔پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیا اور ناک صاف إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ کیا۔پھر انہوں نے اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ تک تین تین بار دھوئے۔پھر انہوں نے اپنے سرکا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ سح کیا۔پھر ہر ایک پاؤں کو تین تین بار دھویا۔پھر کہا: میں نے نبی ﷺ کو اپنے اس وضو کی طرح کرتے الله نَحْوَ وُضُوْئِي هَذَا وَقَالَ مَنْ تَوَضَّأَ دیکھا اور آپ نے فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح نَحْوَ وُضُوْئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے۔ان کے درمیان لَا يُحَدِّثُ فِيْهِمَا نَفْسَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا دل میں اپنے آپ سے باتیں نہ کرتا ہو تو جو گناہ اس سے پہلے ہو چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے اس کی مغفرت کر دے گا۔تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔اطرافه: ١٥٩، ١٦٠، ١٩٣٤، ٦٤٣٣۔