صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 249
صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۹ ۴ - كتاب الوضوء الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ أَنَّهُ کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ابوادر لیس سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ سے سنا۔ وہ نبی علیہ سے روایت کرتے تھے۔ آپ فَلْيَسْتَنْفِرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُؤْتِرْ۔ نے فرمایا: جو وضو کرے تو ناک صاف کرے اور جو استنجا طرفه: ١٦٢ صلى الله کے لئے ڈھیلے استعمال کرے تو طاق استعمال کرے۔ بَاب ٢٦ : الْإِسْتِجْمَارُ وِتْرًا ڈھیلے طاق عدد لینا ١٦٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۶۲: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابوز ناد سے، ابوزناد الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ { مَاءًا * } سے کوئی وضو کرے تو چاہیے کہ اپنی ناک میں ( پانی ہو) ڈالے۔ پھر اس کو صاف کرے اور جو استنجا کے لئے ثُمَّ لِيَنْظُرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُؤْتِرْ وَإِذَا ڈھیلے لے تو وہ طاق لے اور اگر تم میں سے کوئی اپنی نیند اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِّنْ نَّوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ سے جاگے تو چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ وضو کے پانی میں يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوْئِهِ فَإِنَّ ڈالنے سے پہلے دھولے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ۔ جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں بسر کی ہے۔ طرفه: ١٦١۔ تشريح : الإِسْتِنَارُ فِي الْوُضُوءِ وَالاسْتِعْمَارُ فِي الْإِسْتِجَاءِ : امام بخاری جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، تقدیم و تاخیر میں بھی اپنا کوئی نہ کوئی مقصد ملحوظ رکھتے ہیں۔ باب میں وضو کی اص وضو کی اصل غرض و صلى الله غایت پر بحث تھی۔ اس بحث کے ضمن سن میں میں ناک ناک صاف صاف کرنے کرنے ! اور ڈھیلے طاق عدد رکھنے کے متعلق شارع شارع اسلام ا کا حکم پہلے بیان کیا ہے تا معلوم ہو کہ جہاں ظاہری صفائی مد نظر ہے وہاں ساتھ ہی ایک معنوی امر بھی ملحوظ ہے۔ ناک کو صرف پانی لگا دینا مقصود نہیں بلکہ اس کو اچھی طرح صاف کرنا ہے۔ اسی کو استِشَارُ کہتے ہیں، جو استنشاق یعنی ناک میں پانی لینے حمد لفظ ماء" فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء اول حان ء اول حاشیه صفحه ۳۴۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔