صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 240
صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۰ ۴- كتاب الوضوء تشریح: الإِسْتِجَاء بِالْمَاءِ : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کوان چھوٹے چھوٹے مسائل کے متعلق مستقل باب باندھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ مسلمانوں میں بعض ایسے لوگ پیدا ہو چکے تھے جو گھروں میں بیوت الخلاء اور پانی سے استنجا کرنا مکر وہ سمجھتے تھے اور یہ لوگ ابن ابی شیبہ کی ان روایتوں پر اپنے خیالات کی بنیادرکھتے تھے۔جن میں یہ ذکر آتا ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: پانی سے استنجا کرنے سے میرے ہاتھ میں بد بو باقی رہے گی اور نافع نے حضرت ابن عمر کے متعلق بیان کیا کہ وہ پانی سے استنجا نہیں کیا کرتے تھے اور ابن حبیب مالکی بھی منع کیا کرتے تھے۔یہ لوگ ڈھیلے پتھر وغیرہ سے آلائش دور کرتے تھے۔انہی لوگوں میں سے ابن معاذ رازی بھی ہیں جو حضرت انس سے روایت نقل کرتے ہوئے اس بات کو صحیح قرار نہیں دیتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجا کیا کرتے تھے۔غرض ان لوگوں کا رد کرنے کے لئے امام موصوف نے یہ باب باندھا ہے اور اس میں حضرت انس کی نہایت صحیح روایت بیان کی ہے اور اس بارے میں ایک روایت (نمبر ۱۴۳) حضرت ابن عباس کی بھی ابھی گذر چکی ہے۔مسلم و ترمدی وغیرہ نے بھی صحیح سندوں سے اس امر کے متعلق روایتیں نقل کی ہیں۔ابن حبان اور ابن خزیمہ نے بھی معتبر ذرائع سے اس امر کو ثابت کیا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے عمدۃ القاری، جزء ثانی صفحہ ۲۸۷-۲۸۸) امام بخاری نے اس باب کے بعد چار الگ الگ باب قائم کر کے ان میں جو روایتیں بیان کی ہیں ان میں بھی پانی سے استنجا کرنے کا ذکر آتا ہے۔دوسرے باب میں یہ جو کہا : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالطَّهُورِ وَالْوِسَادَةِ، اس سے مراد حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان چیزوں کو سفر وحضر میں سنبھال کر رکھتے تھے اور ضرورت کے وقت پیش کرتے۔حضرت انس کی روایت میں یہ جو ہے کہ میں اور ایک لڑکا آپ کے ہے ہو لئے۔بعض کے نزدیک اس لڑکے سے حضرت عبداللہ بن مسعود یہی مراد ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ثانی صفحہ ۲۹۲) غلام جوان آدمی کو بھی لڑکا مجازاً کہتے ہیں۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں حضرت ابن مسعودؓ کو جبکہ وہ بکریاں چرا رہے تھے، کہا: إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمْ۔(مسند أحمد بن حنبل، مسند عبدالله بن مسعود۔جلدا، صفر ۴۶۲) امام بخاری کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ یہ ان لوگوں کی شہادتیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر و حضر میں ہمیشہ رہتے تھے۔حضرت ابوالدرداء نے جو حضرت عثمان کے زمانہ میں دمشق کے قاضی تھے ، علقمہ بن قیس کو مخاطب کر کے کہا کہ تم میں یعنی عراقیوں میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیضیاب ہوئے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ آخر عمر میں کوفہ میں بود و باش رکھتے تھے۔(عمدۃ القاری جزء ثانی صفحہ ۲۹۱) حضرت ابودرداء کا واقعه ( بخاری ) کتاب المناقب ( باب مناقب عبد اللہ بن مسعودؓ ) میں بھی بیان کیا گیا ہے۔امام بخاری نے آگے جا کر پتھر سے استنجا کرنے کے متعلق بھی ایک الگ باب قائم کیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کے موجود نہ ہونے پر آپ نے پتھر سے بھی کام لیا ہے۔جنگل و بیابان میں رہنے والوں کو پانی کم ملتا ہے اور ان کی سہولت کے لئے امام مالک و امام شافعی نے جواز کا عام فتویٰ دیا ہے۔ورنہ پانی اصل ہے نجاست کے دور کرنے کے لئے اور اس میں کسی امام کو بھی اختلاف نہیں ہوا۔(عمدۃ القاری جزء ثانی صفحہ ۳۰۰،۲۹) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پتھر سے استنجا کرنے کے بعد پانی بھی استعمال کیا کرتے تھے۔