صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 234
صحيح البخاري - جلد ا ۲۳۴ ۴- كتاب الوضوء باب ۱۱ لَا تُسْتَقْبَلُ الْقِبْلَةُ بِغَائِطِ أَوْ بَوْلٍ إِلَّا عِنْدَ الْبِنَاءِ جِدَارٍ أَوْ نَحْوِهِ پاخانہ یا پیشاب کرنے میں قبلہ کی طرف منہ نہ کیا جائے، سوائے اس کے کہ عمارت کے پاس دیوار ہو یا اسی قسم کی کوئی اور چیز ١٤٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ۱۴۴: ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: ابو ذئب کے أَبِي ذِنْبِ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ بیٹے نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: زُہری نے عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عطاء بن یزیدیشی سے ، عطاء الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی نے حضرت ابوایوب انصاری سے روایت کی ۔ انہوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے الْغَائِطَ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يُوَلِّهَا کوئی قضائے حاجت کے لئے جائے تو وہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اور نہ اس کی طرف اپنی پیٹھ کرے۔ مشرق کی طرف منہ کر دیا مغرب کی طرف۔ ظَهْرَهُ، شَرِقُوْا أَوْ غَرِبُوا ۔ طرفه: ٣٩٤۔ تشريح : لَا تُسْتَقْبَلُ الْقِبْلَةُ بِغَائِطِ اَوْبَول: آنحضرت صلی اللہ علہ وسلم نے ن صرف نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذ کی ذات کا بلکہ حرمات اللہ کا بھی ادب ادب ہر حالت میں ملحوظ میں ملحوظ رکھا ہے۔ چنانچہ قضا ہ قضائے حاجت کے وقت آپ نے یہ تعلیم دی ہے کہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرو۔ یہ ظاہری ادب آپ نے دراصل باطنی ادب کے قائم رکھنے کے لئے سکھلایا ہے۔ ظواہر کے ترک کرنے سے باطنی حقیقت بھی محفوظ نہیں رہتی، بلکہ ضائع ہو جاتی ہے اور بسا اوقات ظاہری حالت سے باطنی احساس بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ (ملاحظہ ہو : اسلامی اصول کی فلاسفی ، صفحہ ۵ تا ۷ ۔ روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۱۹ تا ۳۲۱) شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا شَرِّقُوا أَوْ غَرَبُوا جو فرمایا ہے تو یہ مدینہ والوں کے لئے ۔ ہندوستان کے لوگ شمال یا جنوب کی طرف منہ کر سکتے ہیں۔ غرض شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے قضائے حاجت کے وقت اس بات کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے کہ انسان اپنے نفس کو اس کدورت سے بھی پاک رکھے، جس سے شعائر اللہ کی بے حرمتی کا اندیشہ ہو۔ یہ تیسرا ادب ہے جو اس ضمن میں سکھلایا گیا ہے۔ الَّا عِنْدَ الْبِنَاءِ: یعنی اگر سامنے آوٹ ہو تو قبلہ رخ بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ یہ استثناء بعض دوسری روایتوں کی بناء پر ہے جو امام احمد بن حنبل، ابوداؤد، نسائی اور ابن خزیمہ وغیرہ نے نقل کی ہیں۔ نہ کہ لفظ غائط کی بناء پر جیسا کہ بعض شارحین کا خیال ہے اور نیز حضرت ابن عمر کی روایت کی بناء پر جو اگلے باب میں ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ثانی صفحہ ۲۷۸)