صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 211 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 211

محيح ی جلدا ۲۱۱ ٣- كتاب العلم إِذًا يَتَّكِلُوْا وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذْ عِنْدَ مَوْتِهِ گے۔آپ نے فرمایا: تب تو وہ بھروسہ کرلیں گے۔حضرت معاذ نے مرتے وقت یہ بات بتلائی تا کہ وہ تَأَثْمًا۔طرفه: ۱۲۹۔گناہ سے بچ جائیں۔۱۲۹: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۲۹ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: معتمر نے ہمیں بتلایا۔مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ان کے باپ أَنَسًا قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔وہ کہتے تھے: مجھ سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت معاذ سے کہا: جو شخص عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اس نے اس کے يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ أَلَا ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ ٹھہرایا ہوگا تو وہ جنت میں داخل أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ لَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ ہوگا۔حضرت معاذ نے پوچھا: کیا میں لوگوں کو (اس کی ) خوشخبری نہ دوں۔فرمایا: نہیں مجھے اندیشہ ہے کہ وہ بھروسہ يَتَّكِلُوْا۔طرفه: ۱۲۸ کرلیں گے۔تشریح : مَنْ خَصَّ بِالْعِلْمِ قَوْمًا دُونَ قَوم : اس باب میں علاء کو ٹھیو او ادب سکھلایا ہے۔پہلے باب میں تو یہ تھا کہ کسی پسندیدہ بات کو ابتلاء کے ڈر سے نہ کرنا اور یہاں یہ ہے کہ کسی علمی بات کو خاص لوگوں میں محدود کرنا۔کیونکہ عام لوگ اس کے صحیح مطلب تک نہ پہنچنے کی وجہ سے نقصان اُٹھا ئیں گے۔اس حدیث نے اس قسم کی باتوں کی نوعیت واضح کر دی ہے۔حضرت ابو ہریرہ نے جو قُطِعَ هَذَا الْبَلْعُومُ کی فکر سے بعض باتیں چھپائی ہیں۔اس کی بالکل اور صورت تھی ( ملاحظہ ہو تشریح روایت نمبر ۱۲۰) اور یہ اور صورت ہے۔باب میں حضرت علیؓ کا قول جو نقل کیا ہے تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم واضح کرنے کے لئے کیا ہے۔مسلم نے بھی حضرت ابن مسعودؓ کی ایک روایت صحیح سند سے بیان کی ہے۔جس میں یہ الفاظ ہیں: مَا أَنتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا لَّا يَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ إِلَّا كَانَ لِبَعْضِهِمُ فِتْنَةٌ۔۔۔(مسلم، المقدمة، حدثنى ابو الطاهر) ان ارشادات نبویہ کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق مخاطب کرنا چاہیے۔حضرت ابوذر سے جو آپ نے فرمایا: وہی آپ نے حضرت ابو ہریرہ سے بھی فرمایا۔جسے وہ سن کر لوگوں میں اعلان کرنے کے لئے دوڑے۔حضرت عمرؓ نے ان کو منع کیا اور وہ باز نہ آئے۔جس پر انہوں نے ان کو مارا اور پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور آپ نے حضرت عمر کی تائید فرمائی۔(مسلم کتاب الايمان باب الدليل على ان من مات على التوحيد دخل الجنة) ہم اب بھی دیکھتے ہیں کہ مومن ساز لوگوں نے کس طرح لا الہ الا اللہ کے محض زبانی اقرار کو اپنے لئے آڑ بنا رکھا ہے اور شریعت کی تکلیفوں سے بنی نوع انسان کو آزاد کر کے ان کو ایمان کا سرٹیفکیٹ دے دینا چاہتے ہیں اور صِدْقًا مِّنْ