صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 108 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 108

حيح ی جلد ا ۱۰۸ ٢ - كتاب الإيمان وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيْتَاءُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ اللہ کا رسول ہے اور نماز سنوار کر ادا کرنا اور زکوۃ دینا اور رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت سے پانچواں الْحُمُسَ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعِ عَنِ الْحَنْتَمِ حصہ بھی دیا کرنا اور آپ نے ان کو چار چیزوں سے منع فرمایا۔سبز لاکھی مرتبان اور کدو کے تو نے اور گریدی ہوئی وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيْرِ وَالْمُزَقَّتِ وَرُبَّمَا قَالَ لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے اور کبھی راوی نے الْمُقَيَّرِ وَقَالَ احْفَظُوْهُنَّ وَأَخْبِرُوْا بِهِنَّ مُزَفَّت کی بجائے مُقیر کہا اور آپ نے فرمایا: ان باتوں کو یا درکھو اور جو تمہارے پیچھے ہیں انہیں بھی بتلاؤ۔مَنْ وَّرَاءَكُمْ۔اطرافه ،۸۷، ۵۲۳، ۱۳۹۸، ۳۰۹۵، ۳۵۱۰، ٤٣٦٨ ٤٢٦٩، ٦١٧٦، ٧٢٦٦، ٧٥٥٦۔تشریح ادَاءُ الْخُمُسِ مِنَ الْإِيمَان: اس باب میں جو حدیث لائی گئی ہے، اس کے مضمون کی طرف باب نمبر ۳۷ میں اشارہ ہو چکا ہے۔اس کا تعلق بھی اسی باب سے ہے۔جس میں ایمان اسلام اور احسان کا ذکر ہے۔ماقبل کا باب بطور جملہ معترضہ کے ہے۔جس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ دل کی اصلاح اصل بنیاد ہے ، اعمال کی درستگی کے لئے۔یہی وجہ ہے کہ باب نمبر ۳۸ کا کوئی علیحدہ عنوان قائم نہیں کیا۔اس باب میں غنیمت کے متعلق الگ عنوان اس بات کی طرف ضمناً اشارہ کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے کہ قوم جب کمزور و مغلوب حالت میں ہو تو وہ اچھی طرح اپنے مذہبی فرائض کو بھی ادا نہیں کر سکتی۔مثلاً یہی شمس کا ادا کرنا۔ربیعہ قوم کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دین سیکھنے کے لئے اس لئے نہیں آسکتے تھے کہ مضر جو مسلمانوں کے دشمن تھے۔بوجہ طاقتور ہونے کے ان کے لئے روک بنتے تھے۔غنیمت ہر اس مال کو کہتے ہیں جو دشمن کے مغلوب ہونے پر اس کے مقبوضات میں سے ہاتھ آئے اور یہ غنیمت غلبہ کے ساتھ ہی حاصل ہوتی ہے۔پس اس میں سے پانچواں حصہ ادا کرنے کو جو ایمان کی جزء قرار دیا گیا ہے۔تو اس سے دراصل اس غلبہ اور اقتدار کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، جس کے حاصل ہونے پر ایمان کے بعض عملی پہلوؤں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے موقع ملتا ہے۔مذکورہ بالا حدیث سے شراب نہ پینے وغیرہ مسائل کے متعلق بھی استدلال کیا جاسکتا تھا۔خصوصاً جبکہ مذکورہ بالا واقعہ بھی نبیذ کے پینے سے متعلق ہے۔ابو جمرہ نے جو قبیلہ عبد القیس میں سے تھے ، حضرت ابن عباس سے جب نبیذ کا ذکر کیا تو انہوں نے ان کو عبد القیس کے وفد کا واقعہ سنایا۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۷۲) مگر امام بخاری نے شراب کی حرمت اور نماز وغیرہ کے احکام کو نظر انداز کر کے صرف غنیمت کو عنوان میں جو نمایاں کیا ہے تو اس سے اس کمزوری یا غلبہ کی طرف توجہ دلانی مقصود ہے جس سے ایمان کمزور یا مضبوط ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں شمس کا حکم دیا ہے وہاں اسی غلبہ اور اقتدار کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اس کو ایمان کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ملاحظہ ہو آیت: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ حُمْسَهُ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَحْمَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيْلِ إِن كُنتُمْ آمَنْتُمُ بِاللَّهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ