صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 107
صحيح البخاري - جلد ا ۱۰۷ ٢ - كتاب الإيمان باب ٤٠ : أَدَاءُ الْخُمُسِ مِنَ الْإِيْمَانِ غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنا بھی ایمان میں سے ہے ٥٣ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ :۵۳: ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ كُنْتُ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو جمرہ سے روایت کی۔ انہوں أَقْعُدُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ يُجْلِسُنِي عَلَی نے کہا: میں حضرت ابن عباس کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ وہ سَرِيْرِهِ فَقَالَ أَقِمْ عِنْدِي حَتَّى أَجْعَلَ مُجھے اپنی چار پائی پر بھلاتے۔ انہوں نے کہا: میرے پاس ٹھہر جاؤ تا کہ میں اپنے مال سے تمہارے لئے ایک لَكَ سَهْمًا مِنْ مَّالِي فَأَقَمْتُ مَعَهُ حصہ مقرر کر دوں ۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ دو ماہ ٹھہرا شَهْرَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ اور انہوں نے کہا کہ عبدالقیس کا وفد جب نبی صلی اللہ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: یہ کون لوگ ہیں یا قَالَ مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَقْدُ قَالُوا رَبِيعَةُ (فرمایا) یہ کون وفد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ قوم قَالَ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ کے ۔ آپ نے فرمایا: مرحبا اس قوم کو یا ( فرمایا) اس خَزَايَا وَلَا نَدَامَى فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وفد کو۔ نہ ذلیل ہوں اور نہ پشیمان ۔ انہوں نے کہا: صلى الله عليه إِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ تَأْتِيَكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ يارسول اللہ ا ہم آپ کے پاس نہیں آسکتے مگر عزت والے مہینہ میں ۔ کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان بہ یه الْحَرَامِ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ کفار مصر کا قبیلہ ہے۔ اس لئے آپ ہمیں ایک امر فیصل كُفَّارِ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَضْلٍ نُخْبِرْ بِهِ کاظم دیں۔ تاہم اپنے پچھلوں کو بھی وہ بتلائیں اور اس مَنْ وَرَاءَ نَا وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ پر عمل کر کے ہم بھی جنت میں داخل ہوں۔ نیز انہوں نے عَنِ الْأَشْرِبَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ آپ سے پینے والی چیزوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے عَنْ أَرْبَعِ أَمَرَهُمْ بِالْإِيْمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے منع فرمایا: ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ فرمایا: کیا تمہیں پتہ۔ ہے قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْإِيْمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگے : اللہ اور قَالُوْا اللهَ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس بات کا لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ اقرار کرنا کہ سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد