صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 106 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 106

حيح ری جلد ا 1+4 ٢ - كتاب الإيمان کے اندر زندگی کی روح پھونکی جاتی ہے اور وہ قوم نشو و نما پاتی ہے۔چونکہ یہ اس کا قیاس واقعات سے بھی ثابت ہوتا ہے۔اس لئے امام موصوف نے اس کو بطور ایک عقلی دلیل کے پیش کیا ہے۔سابقہ باب میں انہوں نے اس بات کو پیش کیا تھا کہ ایمان و عمل کا نقص قوم کے لئے موت کی گھڑی کا اعلان ہوتا ہے اور دین کی طرف ظاہری نسبت اس کو نجات نہیں دے سکتی اور جب ایمان صحیح ہو تو پھر قوم مرتی نہیں، بلکہ ہر شر سے امن میں ہو کر بڑھتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد جو باب آپ نے قائم کیا ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان کو اپنے دین اور اپنی آبرو کو محفوظ رکھنے کے لئے پوری احتیاط سے کام لینا اور دل کو ہر نا پاک خیال سے صاف رکھنا چاہیے۔بَاب :۳۹: فَضْلُ مَنِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ اس شخص کی فضیلت جس نے اپنے دین کی خاطر گناہ سے بچنے میں پوری احتیاط کی ٥٢ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ :۵۲ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، (کہا: ) زکریا نے۔عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ عامر سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے بَشِيْرٍ يَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر سے سنا۔وہ کہتے تھے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ الْحَلَالُ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔آپ نے فرمایا: حلال بين بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان دونوں کے وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى حمد الله درمیان شبہ والی کچھ باتیں ہیں۔اکثر لوگ انہیں نہیں جانتے۔پس جو ان مشتبہ باتوں سے بچا، اس نے اپنے الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ دین اور اپنی آبرو کو محفوظ رکھنے کے لئے پوری احتیاط وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعِ يَرْعَى سے کام لیا اور جو ان مشتبہ امور میں جا پڑا تو وہ اس حَوْلَ الْحِمَى يُوْشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ أَلَا چرواہے کی مانند ہے جو اپنار یوڑ رکھ کے آس پاس چرا وَإِنَّ لِكُلّ مَلِكٍ حِمَى أَلَا إِنَّ حِمَى اللَّهِ رہا ہے۔قریب ہے کہ اس میں ریوڑ جا پڑے۔دیکھو ہر فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے۔خیال رکھنا کہ اللہ کی رکھ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ اس کی زمین میں اس کی حرام کی ہوئی باتیں ہیں۔كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ خبردار! اور جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے۔اگر وہ ٹھیک ہے تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ۔طرفة: ٢٠٥١۔جسم بگڑ جاتا ہے اور تمہیں معلوم ہے کہ وہ دل ہے۔