صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 78
صحيح البخاری جلد ا ZA ٢ - كتاب الإيمان کہا ہے اور ان میں سے اس فریق کے برخلاف جو صلح نہ کرے ہل کر جنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔صلح سے انکار کرنے والے فریق کے لئے کسی اور عذاب الہی کا وعید نہیں۔اگر اس حدیث کا مفہوم محدود نہ کیا گیا اور انہیں غیر مومن کہہ کر جہنمی ٹھہرایا گیا تو قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت کے صریح خلاف ہوگا۔اس حدیث میں اس خونریزی کا ذکر ہے جو طیش میں آ کر کی جاتی ہے اور ان آیات میں سیاسی جنگ کا ذکر ہے جس میں اجتماعی و دینی مفاد مد نظر ہوتے ہیں۔پس اس حدیث کی بنا پر ہر لڑائی کو معصیت قرار دے کر لڑنے والوں کو کافر اور جہنمی ٹھہرانا صریح غلطی ہے۔قرآن مجید نے ان لڑنے والوں کے لئے جہنم کی سزا تجویز نہیں کی۔قَالَ ذَهَبْتُ لا نُصُرَ هَذَا الرَّجُلَ : جس واقعہ کی طرف احنف بن قیس نے اشارہ کیا ہے، وہ جنگ جمل ہے جو حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ہوئی۔هذا الرَّجُلَ سے مراد حضرت علی ہیں۔احنف بن قیس یہ حدیث سن کر پہلے تو رک گئے۔مگر بعد میں جب ان کو اس اجتہادی غلطی کا علم ہوا تو وہ جنگ میں شریک ہوئے اور حضرت علی کی انہوں نے مدد کی اور بلحاظ اجتہاد کے حضرت علیؓ کو حضرت ابو بکرہ پر ترجیح دی۔كَلا هُمَا فِي النَّارِ : کسی غلطی کی سزا ملنایا نہ ملنا اور بات ہے۔مگر اس غلطی کی وجہ سے کسی کو ایمان و اسلام سے خارج قرار دینا اور بات۔بَاب ۲۳ : ظُلْمٌ دُوْنَ ظُلْمٍ ظلم بھی چھوٹا بڑا ہوتا ہے :٣٢ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا :۳۲ ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے شُعْبَةُ ح قَالَ و حَدَّثَنِي بِشْرٌ قَالَ ہمیں بتلایا۔نیز مجھ سے بشر نے بیان کیا، کہا: محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ سلیمان سے سلیمان نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے ، علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ) سے قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ : الَّذِينَ آمَنُوْا وَلَمْ روایت کی۔انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ } (الأنعام: (۸۳) لَهُمُ الْآمُنُ وَ هُمْ مُهْتَدُونَ * تو رسول الله صلى الله الفاظ أُولَئِكَ لَهُمُ الآمَنَ وَهُمْ مُهْتَدُونَ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۱۱۸) اس آیت کریمہ کا ترجمہ یہ ہے: { وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم کے ذریعے مشکوک نہیں بنایا یہی وہ لوگ ہیں جنہیں امن نصیب ہوگا اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔}