صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 62 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 62

صحيح البخاری جلد ا ۶۳ ٢ - كتاب الإيمان تشريح : مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَان : حدیث نمبر ۲ کا مضمون یہ ہے کہ جن کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا۔ وہ دوزخ سے بالآخر نکالے جائیں گے اور باب کا عنوان یہ قائم کیا گیا ہے کہ اعمال کی وجہ سے اہل ایمان کا ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہونا ۔ یہ باریک استنباط امام بخاری نے اس سے کیا ہے کہ دوزخ سے نکلنے والے کچھ نہ کچھ ایمان رکھتے ہوں گے۔ یعنی مومن جس کا ایمان ناقص ہے دوزخ میں جائے گا اور یہ ایمانی نقص اعمال صالحہ کے نہ ہونے کی وجہ ۔ وجہ سے ہے۔ ایمان کو قرآن مجید نے درخت قرار دیا ہے اور عمل کو پانی ۔ کچھ مومن ؟ کچھ مومن جنت میں اور کچھ مومن جو دوزخ کے مستحق ہوں گے، دوزخ میں جائیں گے۔ یہ تفاوت جو اُن میں ہوا محض اعمال صالحہ کی وجہ سے ہوا۔ اس وقت بھی جبکہ وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے؛ ایمان کی نشو و نما کے لئے پھر اُن کو ایک قسم کے آب حیات کی ضرورت ہوگی جو ایمان کو اسی طرح سینچے گا جس طرح اس دنیا میں سینچتا ہے۔ اسلامی اعتقاد کی روح سے دوزخ کی سزا محض ایک استعداد و قابلیت پیدا کرنے کے لئے ہوگی اور دوزخ سے نجات پانے پر انسان کو ایک نئی زندگی شروع کرنے کا سامان ملے گا اور وہ اس قانون ربوبیت کے ماتحت نئی زندگی حاصل کریں گے جو اس دنیا میں جاری ہے۔ یہ مراد ہے دانے کی مثال دینے سے اور اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایمان بغیر اعمال کے اس دانے کی مانند ہے، جو بغیر پانی کے نشو و نما نہیں پاتا اور ضمنا ان فرقوں کا بھی رد کیا گیا ہے۔ جن کی طرف علامہ عینی نے اپنی شرح میں اشارہ کیا ہے۔ یعنی مرجیہ وغیرہ کا جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ گنہگار ہمیشہ آگ میں رہیں گے خالی ایمان قطعاً کوئی نفع نہیں دے گا ۔ (عمدۃ القاری جزء اول صفحه ۱۷) دائمی سزا کی بحث آگے آئے گی۔ اس ضمن میں دیکھیں روایت نمبر ۲۵۔ قَالَ وُهَيْبٌ : وہیب کی روایت کی طرف جو امام بخاری نے اشارہ کیا ہے کہ انہوں نے خَرُ دَلٍ مِّنْ إِيْمَانِ کی بجائے خَرْدَلٍ مِّنْ خَيْرِ کہا؛ یہ اپنے استنباط کو مضبوط کرنے کے لئے کہ اس حدیث سے اصل مراد اعمال کا ہی تفاوت ہے۔ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ ۔۔۔۔۔ گو یہ ایک خواب ہے مگر سچی خواب کے نظارے واقعات و حقائق پر مبنی ہوتے ہیں اور وہ معانی کو تمثیلات کے رنگ میں دکھلاتے ہیں۔ قمیص جو کہ انسان کا ننگ ڈھانپتی ہے، عالم خواب میں ”دین“ کے مترادف ہے۔ قمیص پہننے سے عمل مراد ہے اور اس کا چھوٹا بڑا ہونا قلت و زیادتی پر دلالت کرتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے بھی اسی مضمون کا استدلال کیا ہے، جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ ”دین“۔ ایمان اور اسلام دونوں کے مفہوم کو شامل رکھتا ہے۔ اعمال کی وجہ سے بعض لوگ دین میں ناقص تھے اور بعض کامل ۔ بَابِ ١٦ : الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَانِ حیا بھی ایمان ہی میں سے ہے ٢٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۴: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ مالک بن انس نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابن شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيْهِ شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے،