صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 61
صحيح البخاري - جلد ا ۶۱ ٢ - كتاب الإيمان أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ ایمان ہے اس کو نکال دو تب وہ آگ سے نکلیں گے مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنْ إِيْمَانِ اور حالت یہ ہوگی کہ وہ جھلس کر سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ فَيُخْرَجُوْنَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا فَيُلْقَوْنَ پھر وہ زندگی کی نہر میں ڈالے جائیں گے۔ مالک کو فِي نَهَرِ الْحَيَا أَوِ الْحَيَاةِ شَكَ مَالِكٌ شک ہے کہ راوی نے بارش کہا یا زندگی کی نہر۔ ا نہر ۔ پھر وہ اسی طرح نشو و نما پائیں گے۔ جس طرح سیلاب کی فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي جَانِبِ لاتی ہوئی زرخیز مٹی میں دانہ نشو نما پاتا ہے۔ پاتا ہے۔ کیا تم السَّيْلِ أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ نے نہیں دیکھا کہ وہ دانہ پہلے زرد رنگ کا لپٹا ہوا نکلتا مُلْتَوِيَةً قَالَ وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو ہے۔ وہیب نے کہا: ہم سے عمرو نے زندگی کا لفظ بیان الْحَيَاةِ وَقَالَ خَرْدَلٍ مِّنْ خَيْرٍ۔ کیا اور بجائے رائی برابر ایمان کے رائی برابر نیکی کہا۔ اطرافه: ٤٥٨١ ، ٤٩١٩ ، ٦٥٦٠ ، ٦٥٧٤ ، ٧٤٣٨، ٧٤٣٩ ۔ ۲۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ۲۳ : ہم سے محمد بن عبید اللہ نے بیان کیا، کہا کہ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابراهيم بن سعد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے صالح صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف ) سے روایت کی کہ ابْنِ سَهْلٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ انہوں نے حضرت ابو سعید خد خدری سے سنا۔ وہ کہتے يَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ اتنے میں میں نے (خواب میں) دیکھا کہ لوگ پہنے يُعْرَضُوْنَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِّنْهَا مَا میرے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور وہ گرتے ۔ يَبْلُغُ التَّدِيَّ وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ ہوئے ہیں۔ ان میں سے کوئی کر تہ تو چھاتی تک پہنچتا وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ ہے اور کوئی اس سے نیچے تک اور عمر بن خطاب بھی میرے سامنے لائے گئے اور وہ بھی گرتہ پہنے تھے۔ قَمِيْصٌ يَجُرُّهُ قَالُوْا فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا جسے وہ (لمبائی کی وجہ سے گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ رَسُوْلَ اللهِ قَالَ الدِّيْنَ۔ اطرافه: ٣٦٩١ ، ۷۰۰٨، ۷۰۰۹ ۔ نے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: دین۔ ان معانی کے لیے دیکھئے : فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۰۰۔ نیز المنجد تحت لفظ ” حیی “۔