صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 45
صحيح البخاری جلد ا لله ٢ - كتاب الإيمان تشريح : بُنِي الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ : باب کے عنوان سے اس حدیث کا تعلق گذشتہ باب میں وا دیث واضح کر دیا گیا ہے۔ (دیکھئے تشریح کتاب الایمان بابا) یہاں پر اتنا بتلا دینا ضروری ہے کہ اس میں کلمہ شہادت کے بعد وہی باتیں بیان کی گئی ہیں جن کا تعلق عمل کے ساتھ ہے اور جو اسلام کے لئے بطور رکن کے ہیں۔ ایک کا تعلق بدنی عبادت کے ساتھ ہے، یعنی نماز ۔ دوسرے کا تعلق مالی عبادت کے ساتھ ہے، یعنی زکوۃ ۔ تیسرے کا تعلق دونوں کے ساتھ مشترکہ ہے اور وہ تمام علائق دنیویہ سے علیحدگی کے مفہوم کو اپنے اندر رکھتا ہے، یعنی حج ۔ اس کے معنی قصد کرنا ۔ ا قصد کرنا ۔ اس میں انسان گھر بار چھوڑ کر اللهُمَّ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے گھر کا قصد کرتا ہے اور چوتھے کا تعلق بھی عمل کے ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے بعض باتوں کو نہ کرنا ، یعنی کھانا پینا چھوڑ دینا۔ غرض اسلام کی بنیاد کا بڑا حصہ عمل ہے۔ بَاب : أُمُورُ الْإِيْمَانِ ایمان کی باتیں وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوْا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ (لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ۔۔۔۔۔ نیکی یہ ہیں ہے کہ تم اپنے وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ من مشرق یا مغرب کی طرف پھیرو، بلکہ نیکی تو اُن کی ہے وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَی جنہوں نے اللہ اور یوم آخرت اور ملائکہ اور کتاب اور الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى نبیوں کو مان لیا ہے اور جنہوں نے مال باوجود محبت رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں وَالْمَسَاكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَالسَّائِلِينَ اور مانگنے والوں کو دیا اور گردنوں کے آزاد کرنے میں بھی وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا (خرچ کیا اوروہ نماز کو ہم شروط سنوار کر ادا کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور جب وہ عہد کرتے ہیں تو اپنے وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ أُولئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا عہدوں کو پورا روں کو پورا کرنے والے ہوتے ہیں اور خاص کر وہ وَأُولئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ (البقرة: ۱۷۸) قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ (المؤمنون: ۲) الْآيَةَ۔ غریبی اور بیماری اور جنگ میں صابر رہتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے عہد بیعت میں ) صادق ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ نیز یہ ساری آیت (قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۔۔۔) یقیناً مومن کامیاب ہو گئے ۔۔۔۔