صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 479
صحيح البخاری جلد ا ۴۷۹ - كتاب الصلوة خَمِيصَةٍ لَّهَا أَعْلَامٌ فَنَظَرَ إِلَى أَعْلَامِهَا نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش تھے۔ نَظْرَةً فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ اذْهَبُوا آپ نے اس کے نقشوں کو ایک نظر دیکھا۔ جب آپ بِخَمِيْصَتِيْ هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي فارغ ہوئے تو فرمایا: میری اس دھاری دار لوئی کو بِأَنْجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَنِي آنفًا ابو ہم کے پاس لے جاؤ اور اب ہم کی انجانی لوئی لے آؤ۔ کیونکہ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے بے توجہ عَنْ صَلَاتِي وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کر دیا۔ اور ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے نقل کیا۔ ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَيْهَا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس کے بیل وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ فَأَخَافُ أَنْ تَفْتِنَنِي۔ بوٹے دیکھتا تھا اور میں نماز میں تھا اور میں ڈرتا ہوں اطرافه: ٧٥٢، ٥٨١٧ کہ کہیں وہ میری توجہ نہ بٹائے ۔ تشریح : اس باب کا مضمون یہ ہے کہ کپڑے سادہ : رے سادہ ہوں ۔ ان میں ایسی چمک دمک نہ ہو جو توجہ بٹائے۔ ذہنی ارتقاء کے ساتھ انسان بالطبع سادگی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ آج کل بھی سلیم الذوق لوگ کپڑے کے انتخاب میں سادہ رنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ نماز میں استغراق کلی کی ضرورت ہے اس لئے شارع اسلام نے نمازی کے ماحول میں ہر ایسی چیز کے وجود کو نا پسند کیا ہے جو اس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے۔ امام بخاری نے عنوان باب میں ایک خفیف سا تصرف کر کے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر کپڑے کے نقشوں پر نظر نہ پڑے تو پھر اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ موطا امام مالک۔ كتاب النداء للصلاة باب النظر في الصلاة الى ما يشغلك عنها : ۲۰۵) میں حضرت عائشہ کی روایت منقول ہے کہ حضرت ابو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لوئی ہدیہ دی تھی جو آپ نے بجائے رڈ کرنے کے تبدیل کرلی۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۲۶) باب ١٥ : إِنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ مُّصَلَّبٍ أَوْ تَصَاوِيْرَ هَلْ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ وَمَا يُنْهَى عَنْ ذَلِكَ ۔ اگر ایسے کپڑے میں نماز پڑھے جس میں صلیب کی شکل یا تصویریں ہوں تو کیا اُس کی نماز ٹوٹ جائے گی اور اس سے جو ممانعت کی جاتی ہے ٣٧٤: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۳۷۴ : ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا۔