صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 641 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 641

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۴۱ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة پوری تحقیق کے بعد فیصلہ کرے۔ اگر اس کا فیصلہ صحیح ہے تو اس کو دو ثواب ملیں گے اور اگر باوجود کوشش کے اُس سے غلط فیصلہ ہو گیا تو اسے ایک ثواب اپنی کوشش اور نیک نیتی کا بہر حال ملے گا۔“ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۵، دسمبر ۲۰۰۳، جلد اول صفحه ۵۲۶) بَاب ۲۲ : الْحُجَّةُ عَلَى مَنْ قَالَ إِنَّ أَحْكَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ ظَاهِرَةً اس شخص کے بر خلاف دلیل جس نے یہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام ہر ایک کے علم میں تھے وَمَا كَانَ يَغِيبُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَّشَاهِدِ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری سے اور النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُورِ اسلامی مہموں سے جو بعض صحابہ کی عدم موجودگی الْإِسْلَامِ۔ بیان کی گئی ہے۔ ٧٣٥٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۷۳۵۳: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یچی (قطان) عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُبَيْدِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى کی۔ انہوں نے کہا:) عطاء نے مجھ سے بیان کیا۔ عطاء نے عبید بن عمیر سے روایت کی۔ انہوں نے عُمَرَ فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْعُولًا فَرَجَعَ کہا: حضرت ابو موسی موسی نے حضرت عمرؓ کے پاس آنے فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ کی اجازت مانگی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ فَدُعِيَ لَهُ فَقَالَ ان کو مشغول پایا تو وہ واپس لوٹ آئے۔ حضرت مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ فَقَالَ إِنَّا عمر نے کہا کہ کیا میں نے عبد اللہ بن قین کی آواز كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا قَالَ فَأْتِنِي عَلَى هَذَا نہیں سنی؟ انہیں اجازت دو۔ چنانچہ اُن کو بلا کر بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ فَانْطَلَقَ إِلَى حضرت عمرؓ کے پاس لے آئے تو حضرت عمرؓ نے مَجْلِسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا لَا يَشْهَدُ پوچھا: تم نے جو کیا ہے، کس بات نے تم کو اس پر آمادہ کیا ؟ تو حضرت عبد اللہ بن قیس نے کہا: ہمیں إِلَّا أَصَاغِرُنَا فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ یہی حکم دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر نے کہا: اس بات پر فَقَالَ قَدْ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا فَقَالَ عُمَرُ میرے پاس ثبوت لا ؤور نہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى الله تو وہ انصار کی ایک مجلس میں چلے گئے۔ انصار نے