صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 599
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۹۹ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة تشريح : لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ يُقَاتِلُونَ وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ : میری اُمت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کی تائید میں لڑتا رہے گا اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اہل علم ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس تیرہ سو برس میں نیچرل فلسفی کی کتنی سر توڑ ترقی ہوئی مگر کچھ بھی قرآنی بیان کی غلطی ثابت نہ ہو سکی۔ ہاں عامہ قرآنی دلائل کو تو عامہ علماء اسلام اور منتظمین ملت خیر الانام علیہ وآلہ الصلوۃ والسلام بیان کرتے رہے اور کرتے ہیں اور کریں گے مگر قرآنی آیات بینات تو ایسے بھی ہیں کہ اُن کی پر زور تاثیرات سے ہمیشہ ظلی طور پر اس قسم کے نمونے اسلام میں پیدا ہوتے رہتے ہیں جو اپنی پاک تاثیرات سے دنیا میں الہی سچی توحید اور اپنی کتاب کے فاضلہ اخلاق کو پھیلایا کرتے ہیں اور غیر قوموں پر مختلف پیرائیوں سے اس الہی حجت اور فضل کو پورا کیا کرتے ہیں جن کے لئے ملہوں اور کتابوں کا آنا الہی کتاب ماننے والے مذاہب میں ضروری ہے۔ ہمیشہ ہر صدی میں اس تحریف اور ایزاد اور نقص کو دور کرتے ہیں جو انسانی آزادی کے باعث سچے مذہب میں آجاتی ہے اور ہمیشہ قوم کو جگاتے اور اصل کتاب کو پھیلاتے ہیں۔ حال ہی کے اہل اسلام کو دیکھ لو کیسے کمزور ہیں ضعیف ہیں مگر اپنی کتاب کا درس اس کی اصلی زبان میں کس قدر دے رہے ہیں۔ عیسائی، آریہ، پارسی ذرا آنکھ اُٹھا کر دیکھیں اور منہ پر سے پردہ اُٹھاویں۔ لا تزالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِ (صحیح البخاری، کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب قول النبي ﷺ لا تزال ) اور إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا ۔ (سنن ابی داود کتاب الملاحم، باب ما يذكر في قرن المائة) كا مصداق بن کر اسلام کی طرح اپنی صداقت کو کون ظاہر کرتا ہے۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا: خطابات نور، صفحه ۵۹۲، ۵۹۳) ”دنیا کے مذاہب پر اگر نظر کی جائے تو معلوم ہو گا کہ بجز اسلام ہر ایک مذہب اپنے اندر کوئی نہ کوئی غلطی رکھتا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ در حقیقت وہ تمام مذاہب ابتداء سے جھوٹے ہیں بلکہ اس لئے کہ اسلام کے ظہور کے بعد خدا نے ان مذاہب کی تائید