صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 580
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۸۰ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ فَفَعَلَتْ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے حَفْصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے اس لئے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ حضرت عمرؓ سے فرمائیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ۔ چنانچہ حضرت حفصہ حفصہ نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا كُنتُ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسف والی عورتیں ہو۔ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا ۔ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ حضرت حفصہ حضرت عائشہ سے کہنے لگیں: میں کبھی بھی ایسی نہ ہوئی کہ تم سے کوئی بھلائی پاؤں۔ أطرافه: ١٩٨، ٦٦٤، 665، 679، 683، ۶۸۷، ۱۲، ۷۱۳، ٧١٦، ٢٥٨٨، ٣٠٩٩، ٣٣٨٤، ٤٤٤، ٤٤٤٥، ٥٧١٤۔ ٧٣٠٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ۷۳۰۴: آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب ذِنْبِ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَهْلِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔ زہری نے ہم سے بیان کیا۔ زہری سَعْدٍ السَّاعِدِي قَالَ جَاءَ عُوَيْمِرٌ نے حضرت سہل بن سعد ساعدی سے روایت کی۔ الْعَجْلَانِيُّ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٌّ فَقَالَ انہوں نے کہا: عویم عجلانی عاصم بن عدی کے پاس أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا آئے اور کہنے لگے: بھلا بتاؤ تو سہی کہ ایک شخص فَيَقْتُلُهُ أَتَقْتُلُونَهُ بِهِ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو پائے اور رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ وہ اس کومار ڈالے تو کیا تم اس کو اس شخص کے بدلے رم میں مار ڈالو گے؟ عاصم رسول اللہ صلی علیم سے مجھے یہ فكرة النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پوچھ دو۔ تو انہوں نے آپ سے پوچھا تو نبی صلی علیہ یکم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا فَرَجَعَ عَاصِمٌ فَأَخْبَرَهُ نے ان سوالوں کو برا منایا اور معیوب گردانا۔ یہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ دیکھ کر عام لوٹ آئے اور دعوی کو بتایا کہ بی سی ام الْمَسَائِلَ فَقَالَ عُوَيْمِرِّ وَاللهِ لَآتِيَنَّ نے ایسے سوالات کو ناپسند کیا ہے۔ عویمر نے کہا: النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ وَقَدْ اللہ کی قسم ! میں تو نبی صلی الہ وسلم کے پاس ضرور جاؤں أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى الْقُرْآنَ خَلْفَ عَاصِمٍ گا۔ چنانچہ وہ آئے اور اللہ تعالیٰ نے عاصم کے جانے فَقَالَ لَهُ قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكُمْ قُرْآنًا کے بعد قرآن نازل کر دیا تھا تو آپ نے اس سے