صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 579
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۷۹ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة R أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَكَانَ عُمَرُ فَوْقَ صَوْتِ النبي ۔۔ ابن ابی ملیکہ کہتے تھے : بَعْدُ - وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي حضرت ابن زبیر نے کہا: اس - رت ابن زبیر نے کہا: اس کے بعد حضرت عمر أَبَا بَكْرٍ - ! - إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى الله کی یہ عادت تھی اور اور انہوں نے اپنے نانا حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ حَدَّثَهُ كَأَخِي ابو بکر کے متعلق یہ ذکر نہیں کیا کہ جب نبی صلی اللہ السِّرَارِ لَمْ يُسْمِعْهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ۔ علیہ وسلم کوئی بات کرتے تو وہ آپ سے اتنی آہستہ بات کرتے جیسے کہ کوئی راز کی بات کر رہا ہے۔ اتنی کہ آپ کو اُن کی بات سنائی نہ دیتی یہاں تک أطرافه: ٤٣٦٧، ٤٨٤٥، ٤٨٤٧۔ کہ آپ حضرت عمرؓ سے دریافت فرماتے۔ ۷۳۰۳ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۳۰۳ : اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ مُجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے اُم المؤمنین صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ حضرت عائشہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَتْ عليه وسلم نے یہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں عَائِشَةُ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي نے کہا: ابو بکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ وہ رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِ۔ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ گے اس لئے حضرت عمرؓ سے فرمائیں کہ وہ لوگوں فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ کو نماز پڑھائیں۔ آپؐ نے فرمایا: ابو بکر سے کہو کہ لِحَفْصَةَ قُولِي إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ میں نے حضرت حفصہ سے کہا: تم کہو کہ ابو بکر جب ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : "اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کی آواز سے اپنی آوازیں بلند نہ کیا کرو اور جس طرح تم میں سے بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے اونچی آواز میں باتیں کرتے ہیں اس کے سامنے اونچی بات نہ کیا کر وایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتہ تک نہ چلے۔ یقینا وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے حضور اپنی آوازیں دھیمی رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقوی کے لئے آزما لیا ہے ان کے لئے ایک عظیم بخشش اور بڑا اجر ہے۔“