صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 577
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۷۷ ۹۲ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة الصَّحِيفَةِ فَنَشَرَهَا فَإِذَا فِيهَا أَسْنَانُ كاغذ لڑکا ہوا تھا۔انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہمارے الْإِبِلِ وَإِذَا فِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ غَيْرِ پاس اور کوئی کتاب نہیں جس کو پڑھا جاتا ہو سوائے إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَنَّا فَعَلَيْهِ الله کی کتاب کے اور سوائے اس کے جو اس کاغذ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ میں ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے اس کاغذ کو کھولا تو لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَوْفًا وَلَا عَدْلًا وَإِذَا اس میں اونٹوں کی عمروں کا ذکر تھا۔نیز اس میں فِيهِ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا بھی تھا کہ مدینہ عیر سے لے کر فلاں جگہ تک أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَحْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ حرم ہے۔جس نے اس میں کوئی بدعت کی تو اس اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔اللہ اس سے نہ نفل قبول کرے گا اور نہ فرض يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَّلَا عَدْلًا وَإِذَا عَدْلًا۔اور اس میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کا ذمہ (عہد) فِيهَا مَنْ وَّالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ایک ہی ہوتا ہے۔ان میں سے ایک ادنی شخص فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ بھی اس کے متعلق کوشش کر سکتا ہے۔سو جس نے أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَّلَا مسلمان کے عہد کو توڑا تو اس پر بھی اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔اللہ اس سے نہ کوئی فرض قبول کرے گا نہ نفل۔اس میں یہ بھی تھا جس نے اپنے موالی کی اجازت کے بغیر کسی اور قوم سے تعلق استوار کیا تو اُس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔اللہ اس سے نہ کوئی نفل قبول کرے گانہ فرض۔أطرافه: ۱۱۱، ۱۸۷۰، ۳۰۷، ۳۱۷۲ ،۳۱۷۹ ، 67۰۰، 6903، ٦٩١٥- ٧٣٠١ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا ۷۳۰۱: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ عَنْ باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ مَّسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ مسلم نے ہمیں بتایا۔مسلم نے مسروق سے روایت عَنْهَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی۔انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی