صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 488
صحیح البخاری جلد ۱۶ آپ مزید فرماتے ہیں: ۴۸۸ ۹۳ - كتاب الأحكام ”جو لوگ احکام الہی کی خلاف ورزی کرتے ہیں اُس کا علم ہونے کے بعد اُن کی اصلاح کے بارے میں تساہل سے کام لینا درست نہیں ورنہ بدی کی بیخ کنی نہ ہو گی بلکہ اُس کی جڑ مضبوط ہو کر اُس کی شاخیں پھیلیں گی اور قوم کو تباہ کر دے گی۔مندرجہ بالا روایت میں باجماعت نماز میں شریک نہ ہونے والوں کا ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے متعلق سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔اس واقعہ سے عام دستور العمل کا استدلال کیا گیا ہے کہ تنازعات کے استیصال میں بھی اسی قسم کے شعور احساس سے کام لینا چاہیے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (آل عمران : ۱۱۱) کہ جماعت مسلمہ کے فرائض میں سے ہے کہ اس کا ہر فرد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو سر انجام دے۔“ (شرح صحیح بخاری جلد ۴ صفحہ ۴۱۹) نیز فرمایا: ”باجماعت نماز کی فرضیت عین ہی ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ اگر باجماعت نماز پڑھنا ہی فرض کفایہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو سراسر رحمت تھے اور اعمال میں ہمیشہ سہولت پسند فرماتے تھے باجماعت نماز میں شریک نہ ہونے والوں پر اتنی ناراضگی کا اظہار نہ فرماتے۔“ ( ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد ۲ صفحه ۴۴) باب ٥٣ : هَلْ لِلْإِمَامِ أَنْ يَّمْنَعَ الْمُجْرِمِينَ وَأَهْلَ الْمَعْصِيَةِ مِنَ الْكَلَامِ مَعَهُ وَالزِّيَارَةِ وَنَحْوِهِ کیا امام کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مجرموں اور نافرمانوں کو اپنے ساتھ بات کرنے اور اپنے ساتھ ملاقات وغیرہ کرنے سے منع کر دے ٧٢٢٥: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۷۲۲۵: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبد الرحمن بن هِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ عبد الله بن كعب بن مالک سے روایت کی کہ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ عبد الله بن کعب بن مالک نے کہا اور حضرت