صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 479
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۷۹ ۹۳ - كتاب الأحكام ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ واضح ہو کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کیا کرتے تھے اور مردوں کے لئے یہی طریق بیعت کا ہے سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بطریق مجاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو اپنی ذات اقدس ہی قرار دے دیا اور ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔ یہ کلمہ مقام جمع میں ہے جو بوجہ نہایت قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے۔“ (سرمہ چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد ۲ حاشیه صفحه ۲۷۶،۲۷۵) “ بَاب ٥١ : الِاسْتِخْلَافُ خلیفہ مقرر کرنا ۷۲۱۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ۷۲۱۷: يحي بن يحي نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بن بلال نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یحییٰ بن سعید بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے قاسم بن مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ محمد سے سنا۔ اُنہوں نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عَنْهَا وَارَأْسَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى عنها کہنے لگیں: ہائے میرا سر ۔ رسول اللہ صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسا ہوا اور میں زندہ رہا تو حَيَّ فَاسْتَغْفِرُ لَكِ وَأَدْعُو لَكِ میں تمہارے لئے مغفرت طلب کروں گا اور تمہارے لئے دعا کروں گا۔ حضرت عائشہ نے فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَا تُكْلِيَاهُ وَاللَّهِ إِنِّي کہا۔ ہائے مصیبت اللہ کی قسم میں تو سمجھتی ہوں کہ لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ آپ میری موت کی خواہش کرتے ہیں اگر ایسا لَظَلَلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ ہوا تو اسی دن شام کو اپنی کسی بیوی کے ساتھ أَزْوَاجِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ شادی منانے لگ جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهُ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ نے فرمایا: نہیں بلکہ ہائے میرا سر۔ میں نے یہ قصد أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ کیا ہی تھا یا فرمایا: میں نے یہ ارادہ کیا ہی تھا کہ ابو بکر فَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور وصیت کر دوں