صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 421
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۲۱ ۹۳ - كتاب الأحكام کریں۔اس میں سے خود بخود اپنے لئے رکھ لینا جائز نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبد اللہ بن تنبیہ سے جائزہ لینے کا واقعہ مختصر آیہی بات ذہن نشین کرانے کے لئے نقل کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید نے جن افراد کو زکوة کا مستحق ٹھہر آیا ہے، ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت امام کے زکوۃ میں سے اپنے لئے رکھ لیں۔حضرت عبد اللہ بن تنبیہ کے پاس زکوۃ کے مال میں سے کچھ پایا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع ملنے پر ان سے حساب لیا تو انہوں نے کہا کہ یہ مال بطور ہدیہ انہیں دیا گیا تھا۔آپ نے فرمایا: پھر گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے۔وہیں ہدیہ پہنچ جاتا۔(کتاب الہبہ، روایت نمبر ۲۵۹۷) قرآن مجید نے مصرفِ زکوۃ میں محتاجوں کا حق کارکنوں کے حق پر مقدم رکھا ہے۔لیکن اس کے برعکس پبلک روپے کا بیشتر حصہ کارکنوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔(ترجمہ و شرح صحیح بخاری، کتاب الزکاة، جلد ۳ صفحه ۱۵۲) باب ٢٥ : اسْتِقْضَاءُ الْمَوَالِي وَاسْتِعْمَالُهُمْ آزاد شدہ غلاموں کو قاضی یا کارکن بنانا ٧١٧٥: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ۷۱۷۵: عثمان بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عبد الله بن وہب نے ہمیں بتایا۔ابن جریج نے ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ مجھے خبر دی کہ نافع نے انہیں بتایا کہ حضرت ابن عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ قَالَ عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی۔اُنہوں نے کہا: كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَؤُمُّ سالم حضرت ابو حذیفہ کے غلام تھے ابتدائی الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ وَأَصْحَابَ النَّبِيِّ مہاجرین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ مسجد قباء میں امام ہوا کرتے تھے ان میں حضرت قُبَاءٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت ابو سلمہ اور حضرت زید اور حضرت عامر بن ربیعہ بھی ہوتے۔سَلَمَةَ وَزَيْدٌ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ۔طرفه : ٦٩٢۔تشریح : اسْتِقْضَاءُ الْمَوَالِي وَاسْتِعْمَالُهُمْ : آزاد شدہ غلاموں کو قاضی یا کارکن بنانا۔اسلام نے نہ صرف غلامی کو ختم کیا بلکہ پہلے سے موجود غلاموں کو معاشرے میں وہ عزت اور شرف بخشا کہ