صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 406
صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۹۳ - كتاب الأحكام تیسری مد خرچ کی وَ الْعَلِینَ عَلَيْهَا کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے یعنی جو لوگ زکوۃ کا انتظام کرنے پر مقرر ہوں ان کی تنخواہیں وغیرہ بھی اس سے ادا کی جائیں۔در حقیقت وَالْمِلِينَ عَلَيْهَا کے الفاظ میں وسعت ہے۔ملکی فوج بھی عاملین کی ذیل میں آجاتی ہے کیونکہ اگر فوج نہ ہوگی تو ملک کا امن برقرار نہ رہ سکے گا۔نہ تجارت ہو سکے گی نہ زمینداری۔اور اگر تجارت و زمینداری نہ ہو گی تو زکوۃ کہاں سے آئے گی۔پس زکوۃ کے جمع ہونے میں فوج کا بھی بڑا دخل ہے۔بہر حال زکوۃ کے نظم و نسق کے کارکن اول درجہ پر عاملین کی ذیل میں آتے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۱۰، تفسیر سورۃ الکافرون صفحه ۴۲۶،۴۲۵) بَاب ۱۸ : مَنْ قَضَى وَلَاعَنَ فِي الْمَسْجِدِ جس شخص نے مسجد میں فیصلہ کیا اور لعان کرایا وَلَا عَنَ عُمَرُ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اور حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَى شُرَيْح کے پاس لعان کرایا اور شریح اور شعبی اور یحیٰ يحي وَالشَّعْبِيُّ وَيَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ فِي بن يعمر نے بھی مسجد میں فیصلے کئے اور مروان الْمَسْجِدِ۔وَقَضَى مَرْوَانُ عَلَى زَيْدِ نے بھی منبر کے پاس حضرت زید بن ثابت کو بْنِ ثَابِتٍ بِالْيَمِينِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ۔وَكَانَ تم کھانے کا حکم دیا اور حسن (بصری) اور زراہ بن الْحَسَنُ وَزُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى يَقْضِيَانِ فِي اوقى مسجد کے باہر دالان میں فیصلے کیا کرتے تھے۔الرَّحَبَةِ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ۔٧١٦٥: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۷۱۶۵: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَهْل سفيان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ زہری نے کہا: بْنِ سَعْدٍ قَالَ شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ اُنہوں نے حضرت سہل بن سعد سے نقل کیا۔وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةٌ وَفُرِقَ اُنہوں نے کہا: میں نے آپس میں دو لعان کرنے والوں کو دیکھا اور میں اس وقت پندرہ برس کا تھا بَيْنَهُمَا۔اُن کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا تھا۔أطرافه : ٤٢٣، ٤٧٤٥ ٤٧٤٦، ۲۹ ۱۳۰۸ ۱۳۰۹ ٦٨٥٤، ٧١٦٦، ٧٣٠٤۔