صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 392
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۹۲ ۹۳ - كتاب الأحكام ٧١٦٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي ۷۱۶۰: محمد بن ابی یعقوب کرمانی نے ہم سے بیان يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ کیا کہ حسان بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔یونس نے إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ مُحَمَّدٌ ہم سے بیان کیا کہ محمد نے کہا: سالم نے مجھے خبر أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے انہیں بتایا کہ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضِ اُنہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ فَذَكَرَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حائضہ تھی تو حضرت عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی سے ذکر کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طلاق کی وجہ سے ناراض ہوئے۔پھر آپ نے فرمایا: وہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ اسے لوٹالے اور اسے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے۔پھر وہ حائضہ ہو اور پاک ہو۔فَتَطْهُرَ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا تو پھر اگر اس کو اسے طلاق دینا ہی مناسب معلوم فَلْيُطَلَّقْهَا۔ہو تو اسے طلاق دے دے۔أطرافه : ۱۹۰۸، ۱۲۵۱ ۲۰۲ ۲۰۳ ٥۲۰۸، ٥٢٦٤، ٥٣٣٢، ٥٣٣٣۔ح : هَلْ يَقْضِي الْقَاضِي أَوْ يُفْتِي وَهُوَ غَضْبَانُ: کیا حاکم جبکہ وہ غصے میں ہو کوئی فیصلہ رے یا فتویٰ دے۔امام ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”قاضی کے لیے تین چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ان کے بغیر قاضی کا فیصلہ دینا درست نہیں ، یعنی دلائل، اسباب اور شہادتوں کی معرفت اور ان کا علم کیونکہ دلیل سے اسے شرعی حکم معلوم ہو گا۔اسباب سے اسے معلوم ہو گا کہ زیر غور مقدمے میں یہ حکم لگتا ہے یا نہیں اور گواہیوں سے اختلاف کے وقت فیصلہ کرنا ممکن ہو گا۔اگر ان تین میں سے کسی ایک میں غلطی ہوگئی تو فیصلہ کرنے میں غلطی واقع ہو جائے گی۔(بدائع الفوائد لابن القيم ، جزء ۴ صفحه ۱۲) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ علیہ فرماتے ہیں: اسی طرح غضب اور غصہ کا بے جا غلبہ بھی ایک ظلمت کا پردہ ہے جو انسان کی آنکھوں۔اس کے فرائض کو اوجھل کر دیتا اور عدل کے رستہ سے ہٹا دیتا ہے اس کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے: لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلَا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَ اتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائدة: 9) یعنی اے مومنو تمہیں کسی قوم کی دشمنی ہر گز ہر گز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے معاملہ میں عدل و انصاف کے رستہ سے قف