صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 391
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۹۱ ۹۳ - كتاب الأحكام أَبُو بَكْرَةَ إِلَى ابْنِهِ وَكَانَ بِسِجِسْتَانَ تھے۔حضرت ابو بکرۃ نے اپنے بیٹے کو لکھا اور وہ بِأَنْ لَا تَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ سجستان میں تھا کہ تم دو آدمیوں کے درمیان ایسی غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى حالت میں فیصلہ نہ کرنا کہ تم غصے میں ہو کیونکہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقْضِيَنَّ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔کوئی حَكَمْ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ۔حاکم دو آدمیوں کے درمیان ایسی حالت میں فیصلہ نہ کرے کہ وہ غصے میں ہو۔٧١٥٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۷۱۵۹ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔اسماعیل بن أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الى خالد نے ہمیں خبر دی۔اسماعیل نے قیس بن ابی عَنْ أَبِي مَسْعُودِ الْأَنْصَارِي قَالَ جَاءَ الى حازم سے، قیس نے حضرت ابو مسعود انصاریؒ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک شخص رسول وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَاللَّهِ الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میں تو اللہ کی قسم صبح کی نماز میں فلاں لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا، قَالَ فَمَا شخص کے سبب دیر سے آیا ہوں اس لئے کہ وہ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس نماز میں لمبی سورتیں پڑھ کر دیر تک ہمیں رو کے رکھتا ہے۔حضرت ابو مسعود کہتے تھے۔قَط أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ میں نے کبھی کسی وحفظ میں نبی صلی اللہ ہم کو اس سے بڑھ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ کر غصہ میں نہیں دیکھا جو اس دن تھے۔پھر آپ مِنْكُمْ مُنَقِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّی نے فرمایا: لوگو ! تم میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو بِالنَّاسِ فَلْيُوجِزْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ نفرت دلانے والے ہیں۔سو جو کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے تو چاہیئے کہ وہ نماز کو مختصر کرے۔کیونکہ ان میں کوئی بوڑھا بھی ہوتا ہے اور کوئی کمزور بھی اور کوئی ضرورت والا بھی۔وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ۔أطرافه : ۹۰، ۷۰۲، ٧٠٤، ٦١١٠ -