صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 119
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۱۹ ٩٠ - كتاب الحيل ہو جاتی۔ امام بخاری نے ان حیلہ سازوں کو جو غلط اور جھوٹ پر مبنی حیلوں کے ذریعہ حرام کو حلال بناتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نمونہ اور آپؐ کی تربیت سے آپ کے رنگ میں رنگین ازواج مطہرات کے صحت نیت کے ساتھ سچ پر مبنی حیلہ کو اسلامی تعلیم کے ساتھ پاک اُسوہ کی صورت میں پیش کیا ہے۔ زیر باب روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ آپؐ نے حضرت حفصہ حفصہ کے گھر شہد پیا۔ بعض ازواج نے ا۔ ج نے اسے پسند نہ کیا تو آپ نے آئندہ شہد نہ پینے کی قسم کھائی۔ کھائی۔ اس روایت سے آ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک فطرت اور حسن معاشرت کا نہایت لطیف پہلو سامنے آتا ہے کہ آپ اپنی ازواج کے جذبات کا کس قدر خیال رکھتے تھے اور ان کی دلجوئی اور دل داری کے لیے اپنی جائز ضرورتوں اور خواہشات کی قربانی سے دریغ نہ کرتے۔ اُن کو تکلیف سے بچانے کے لیے خود تکلیف اُٹھا لیتے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی حلال چیز کو چھوڑ دیا تھا۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہر پیا تھا تو ایک بیوی نے کہا: آپ کے منہ سے بو آتی ہے۔ آپ نے خیال فرمایا کہ اگر شہد کا پینا کسی بیوی کو نا پسند ہے تو ہم نہیں پیتے۔ شہد کے پینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترک میں مشکلات تھے۔ اگر وہ قائم رہتا تو مسلمان اسے ایک سنت بنا لیتے۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحہ ۱۴۷) بَاب ۱۳ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْإِحْتِيَالِ فِي الْفِرَارِ مِنَ الطَّاعُونِ طاعون سے بھاگنے کے لئے جو حیلہ کرنا مکروہ ہے : ٦٩٧٣ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۶۹۷۳: عبد عبد الله اللہ بن بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ اُنہوں نے مالک سے ، مالک نے ابن شہاب سے، بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ابن شہاب نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ وَقَعَ بِالشَّأْمِ شام کی طرف نکلے۔ جب آپ سرغ میں پہنچے تو فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ انہیں یہ خبر پہنچی کہ شام میں وبا پھوٹ پڑی ہے تو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عمر کو بتایا إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضِ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی