صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 767
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات ٦۹۱۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۶۹۱۷: محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو الْمَازِنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بن يحي مازنی سے، عمرو نے اپنے باپ سے، اُن الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کی۔انہوں نے کہا: یہودیوں میں سے ایک شخص نبی صلی ال کام کے پاس آیا جس کے منہ پر تھپڑ لگایا گیا لُطِمَ وَجْهُهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَجُلًا تھا۔اور کہنے لگا: اے محمد ! آپ کے ساتھیوں میں مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ لَطَمَ سے ایک شخص نے جو انصاری ہے میرے منہ پر وَجْهِي فَقَالَ ادْعُوهُ، فَدَعَوْهُ۔فَقَالَ طمانچہ مارا۔آپ نے فرمایا: اس کو بلاؤ۔تو لوگوں أَلَطَمْتَ وَجْهَهُ؟ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ نے اس کو بلایا۔آپ نے پوچھا: اس کے منہ پر تم إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ نے کیوں طمانچہ مارا؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ میں یہودیوں کے پاس سے گزر رہا تھا اتنے میں قَالَ فَقُلْتُ أَعَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ میں نے اس کو یہ کہتے سنا۔اس ذات کی قسم ہے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ جس نے موسیٰ کو تمام بشر سے بہتر سمجھ کر چنا۔وہ فَلَطَمْتُهُ۔قَالَ لَا تُخَيَّرُونِي مِنْ بَيْنِ کہنے لگا: میں نے کہا: کیا محمدعلی لیام پر بھی؟ کہنے لگا: الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اُسے تھپڑ لگا دیا۔آپ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا نے فرمایا: انبیاء میں سے مجھے بہتر نہ قرار دو کیونکہ لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے اور أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ میں پہلا شخص ہوں گا جو ہوش میں آئے گا تو کیا الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ دیکھوں گا کہ موسی عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو تھامے ہوں گے۔میں نہیں جانتا کیا وہ مجھے جُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ۔سے پہلے ہوش میں آگئے یا طور کی بے ہوشی ہی اُن کے لئے کافی سمجھی گئی۔أطرافه : ۲۶۱۲:۰، ۳۳۹۸، ٤٦۳۸ ٦٩١٦، ٧٤٢٧۔