صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 752
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۵۲ ۸۷ - كتاب الديات فَحَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ لَمْ بغیر اجازت تجھے جھانک کر دیکھے اور تو اُس کو يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ۔ طرفه: ٦٨٨٨ کنکری مارے اور اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ تشريح ۔ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَعُوا عَيْنَهُ فَلَا دِيَةً لَهُ: جو لوگوں کے گھر میں جھانکے اور وہ اس کی آنکھ کو پھوڑ ڈالیں تو اس کو کوئی دیت نہیں ملے گی۔ زیر باب روایت سے معلوم ہوتا ہے که اسلام نے ہر انسان کی پرائیویسی کو اس کا ذاتی حق قرار دیا ہے۔ اور ممنوعہ علاقے کا درجہ قرار دیا ہے جس میں بلا اجازت کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔ دستک دینا (Door Knocking) آج کی مہذب دنیا کا شعار یا باشعور اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی تہذیب کے منظر نامے سمجھے جاتے ہیں تہذیب کے ان آداب کو سیکھنے اور اختیار کرنے میں آج کی تعلیم یافتہ اقوام کو صدیوں کا سفر کرنا پڑا مگر بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے نہ صرف کھول کر بیان فرما دیا بلکہ اس پر عمل کر کے اپنا پاک اُسوہ پیش فرمایا جسے لاکھوں مسلمان آج تک حرز جان بنائے ہوئے ہیں۔ ہر خُلق کی طرح یہ خُلق بھی بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو بتایا اور اس پرائیویسی کی حفاظت کے لیے انسان کو اپنے دفاع (Self Defence) کا حق دیا۔ اللهم صل علی محمد و آل محمد بَاب ٢٤ : الْعَاقِلَةُ وہ لوگ جن پر دیت کا ادا کرنا لازم ہوتا ہے ٦٩٠٣ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۶۹۰۳: صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں خبر دی۔ مطرف قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ سَمِعْتُ نے ہم سے بیان کیا۔ مطرف نے کہا: میں نے شعبی أَبَا جُحَيْفَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَلِيًّا الله ہے۔ سے سنا۔ شعبی نے کہا: میں نے ابو جحیفہ (وہب بن هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مَّا لَيْسَ فِي عبد الله ) سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت الْقُرْآنِ؟ وَقَالَ مَرَّةً مَا لَيْسَ عِنْدَ علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ کیا آپ کے پاس کچھ النَّاسِ؟ فَقَالَ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ اور بھی ہے جو قرآن میں نہیں ؟ اور کبھی اُنہوں نے وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي یوں کہا: جو لوگوں کے پاس نہ ہو ؟ حضرت علیؓ نے ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں فخذ فت“ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۳۰۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔