صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 690
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۶ - کتاب الحدود رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ لعان کرایا۔یہ سن کر ایک شخص نے حضرت ابن هَذِهِ۔فَقَالَ لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ عباس سے اسی مجلس میں پوچھا کہ کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوءَ۔اگر بغیر ثبوت کے میں کسی کو سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا؟ حضرت ابن عباس نے کہا: نہیں وہ ایک اور عورت تھی جو اسلام میں ہو کر کھلے طور پر بدکاری کرتی تھی۔أطرافه: ٥٣١٠، ٥٣١٦، ٦٨٥٥، ٧٢٣٨۔شريح: مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ وَاللَّفْخَ وَالشُّهَمَةَ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ: جس نے بغیر ثبوت کے بدکاری، بے حیائی اور تہمت کو بیان کیا۔قانون شک کا فائدہ ملزم کو دیتا ہے۔اور جب تک مدعی واضح ثبوت اور شہادتوں سے ملزم کا جرم ثابت نہ کرے۔ملزم کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ اسے اس جرم کی سزادی جاسکتی ہے۔زیر باب روایات میں جن واقعات کا ذکر ہے اُن میں خاوند نے بیوی پر الزام لگایا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الزام لگانے والے پر قذف کی حد نہیں لگائی نہ اس عورت پر زنا کی سزا لاگو کی۔بلکہ میاں بیوی کے اس مقدمہ میں اُن کے لیے لعان کا فیصلہ فرمایا اگر وہ عورت یا مرد جن پر الزام لگا ہو خود اعتراف جرم کر لیں تو ان کو سزادی جائے گی جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اسی طرح کے ایک مقدمہ میں حضرت انیس سے فرمایا: واعدیا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرفت فاز جتھا۔انہیں اس عورت کے پاس صبح جاؤ اگر اس نے اقرار کیا تو پھر اس کو سنگسار کرو۔شہادتوں کے ذریعہ جرم ثابت ہو جانے اور اقبالِ جرم پر قانون سزا نافذ ہو گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے ایک صاحب نے الزام زنا کے متعلق شہادت اور اس کے اثرات وغیرہ کے متعلق استفسار کیا۔اس پر آپ نے فرمایا: ”دنیا کی سزا اصل میں فتنہ کو روکنے کے لئے ہے وگرنہ اصل سزا مالک یوم الدین کا کام ہے۔اسلام نے دنیا میں سزا صرف اس لئے رکھی ہے کہ فتنہ کا سد باب ہو جائے اور جس جگہ فتنہ مکمل نہ ہو وہاں سزا دینے کا کوئی حق نہیں۔اگر الزام زنا میں چار گواہ شہادت دے دیں تو خواہ ملزم بے گناہ ہی ہو اسے سزا دے دی جائے گی۔کئی مقدمات ایسے ہوتے ہیں کہ مجسٹریٹ مجرم سمجھ کر سزا دے دیتا ہے اور سزا دہی کے لئے شہادت بھی کافی ہوتی ہے مگر حقیقت میں سزا پانے والا بے گناہ ہوتا ہے۔بعض (صحيح البخاري، كتاب الحدود، باب الاعتراف بالزنا، روایت نمبر ۶۸۲۷)