صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 590 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 590

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۹۰ ۸۵ - كتاب الفرائض پانچ صد سال کے فاصلے سے محسوس ہوگی۔ ملے جنت کی خوشہ جنت کی خوشبو نہ پانے کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو گا بلکہ جنت کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا، یعنی وہ جہنم میں جائے گا۔ زیر باب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: جو شخص اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو باپ بنانے کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دوسرا اس کا باپ نہیں، اس پر جنت حرام ہے۔ ایک روایت میں اسے (اللہ کے ساتھ ) کفر قرار دیا گیا ہے۔ (صحیح البخاری، كتاب المناقب، روایت نمبر ۳۵۰۸) دوسری روایت میں اسے بہت بڑا بہتان کہا گیا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب المناقب، روایت نمبر ۳۵۰۹) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف نسبت کرے اُس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“ (سنن ابن ماجه، كتاب الحدود، باب مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبيه، روایت نمبر ۲۶۰۹) باب ۳۰ : إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ ابْنَا اگر عورت بیٹے کا دعویٰ کرے ٦٧٦٩ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۶۷۶۹ : ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ نے ہمیں بتایا، کہا: ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ ابو الزناد نے عبد الرحمن سے ، عبدالرحمن نے حضرت عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں تھیں۔ ان قَالَ كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا ان میں سے ایک کا بیٹا لے گیا، اس نے اپنی ساتھن فَقَالَتْ لِصَاحِبَتِهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے۔ بھیڑیا آیا اور سے کہا: وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے۔ دوسری نے کہا: وَقَالَتِ الْأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ وہ تو تمہارا بیٹا لے گیا ہے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنا جھگڑا فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام فیصلہ کے لئے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَنَا عَلَى لائیں تو انہوں نے بڑی عورت کو بچہ دئے جانے سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَام کا فیصلہ کیا۔ وہ وہاں سے نکل کر حضرت سلیمان بن فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّكِينِ أَشُقَّهُ داؤد علیہما السلام کے پاس آئیں اور ان سے اپنا حال ا (سنن ابن ماجه، كتاب الحدود، باب مَن ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، روایت نمبر ۲۶۱۱)