صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 588 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 588

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۸۸ ۸۵ - كتاب الفرائض حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا ہے ، ابن شہاب نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت قَالَتْ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَاصِ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ فَقَالَ سَعْدٌ :کہا : حضرت سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ نے ایک لڑکے کے متعلق جھگڑا کیا۔ سعد نے کہا: أَبِي وَقَاصِ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى یا رسول اللہ ! یہ میرے بھائی عقبہ بن ابی وقاص کا شَبَهِهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي بیا ہے ، وہ مجھے وصیت کر گیا تھا کہ یہ اس کا بیٹا ہے، يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ آپ اس کی مشابہت کو دیکھیں ں اور عبد بن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ میرا بھائی ہے۔ میرے وَلِيدَتِهِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ باپ کے بچھونے پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت کو فَقَالَ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ دیکھا تو عقبہ سے واضح طور پر ملے پر ملتے جلتے دیکھا۔ آپ لِلْفِرَاشِ وَالْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي نے فرمایا: عبد بن زمعہ یہ تمہارا ہی ہے۔ بچہ اس کا مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ فَلَمْ ہوتا ہے جس کے بستر پر جنا گیا ہو اور زانی کو پتھر يَرَ سَوْدَةَ بَعْدُ۔ پڑتے ہیں۔ سودہ بنت زمعہ تم اس سے پردہ کیا کرو۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: اس کے بعد اس نے حضرت سودہ کو کبھی نہیں دیکھا۔ أطرافه: ۲۰۰۳، ۲۲۱۸، ۲۴۲۱ ، ۲۵۳۳، ۲۷۴۵ ، ٤۳۰۳ ، ٦٧٤٩، ٦٨١٧، ٧١٨٢۔ باب ۲۹ : مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو ٦٧٦٦ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ ۶۷۶۶ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے جو هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ عبد الله (طحان) کے بیٹے ہیں، ہمیں بتایا۔ (انہوں ا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ قظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۶۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔